جموں //اپنی پارٹی نے پیر کے روز اپنے پہلے یومِ تاسیس پر جموں وکشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کے لئے جدوجہد کا عزم دہرایا ۔گوجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ چھنی ہمت جموں میں منعقدہ پارٹی کے پہلے یومِ تاسیس اور عالمی یوم ِ خواتین کی پروقارتقریب میں ہزاروں لیڈران اور ورکرز بشمول سینکڑوں خواتین نے شرکت کی۔ سنیئر نائب صدر غلام حسن میر نے اپنے خطاب میںکہا’’جموں وکشمیر جس کی ایک طویل تاریخ کے شہریوں کو ریاستی درجہ چھین کر بے اختیار بنا دیاگیا۔ ہم جموں وکشمیر کی تنزلی کر کے یونین ٹریٹری بنانے کی ہرگز حمایت نہیں کرتے‘‘۔غلام حسن میر نے کہاکہ لیفٹیننٹ گورنر رول کو طوالت دیکر حکومت جموں وکشمیر کو نظر انداز نہیں کر سکتی جہاں پر بے روزگاری میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے اور صنعتی شعبہ بری طرح متاثر ہے۔ اس سے قبل انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی کی بنیاد 8مارچ 2020کو رکھی گئی تھی اور اسی روز عالمی یومِ خواتین بھی منایاجاتاہے۔ پارٹی کے یومِ تاسیس اور عالمی یوم ِ خواتین کے درمیان اتفاق ہے، لہٰذا پارٹی خواتین کو با اختیار بنانے کی وعدہ بند ہے، ہمارے صدر سید محمد الطاف بخاری نے پہلے ہی کہا ہے کہ اپنی پارٹی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں خواتین کو ریزرویشن دینے کی حمایت کرتی ہے۔ نئی صنعتی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے میر نے کہاکہ حکومت کو 90فیصد ہنر اور غیر ہنر روزگار مقامی لوگوں کے لئے مخصوص رکھنی چاہئے۔انہوں نے اشیاء ضروریہ، پٹرولیم مصنوعات اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے پر بھی گہرے تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیاکہ ٹیکس میں کٹوتی کی جائے تاکہ اشیاء ضروریہ کی قیمتیں کم ہوں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اپنی پارٹی امن، ترقی اور خوشحالی پر یقین رکھتی ہے، ہم جموں اور کشمیر خطوں کی یکساں ترقی پریقین رکھتے ہیں، نہ کہ دونوں خطوں کے لوگوں کی تقسیم۔نائب صدر اعجاز خان نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ جذباتی بلیک میلنگ سیاست کا اب خاتمہ ہوگیا ہے، ہم صداقت پر مبنی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔