سرینگر //جموں کشمیر میں سنیچر کو بلیک فنگس کے ایک اور کیس کی نشاندہی ہوئی ہے اور اس طرح ابتک اس بیماری سے متاثرین کی تعداد 15ہوگئی ہے۔ ادھرگورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں پچھلے 10دنوں کے دوران’ بلیک فنگس‘ سے متاثرہ 9افراد کی جراحیاں انجام دی گئیں ۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں شعبہ ای این ٹی کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریضوں کی جراحیاں، انڈسکوپی، اوپن اور چند مریضوں میں دونوں کا استعمال کیا گیا۔مریضوں کا علاج کرنے والے معالجین کا کہنا ہے کہ اسپتال میں جن مریضوں کا علاج و معالجہ کیا گیا ، ان سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہ تمام مریض کورونا وائرس سے ٹھیک ہونے کے بعد ہی بلیک فنگس کے شکار ہوئے ہیں۔ معالجین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے علاج کیلئے کافی دیر تک steriodsکا استعمال، شوگر ، کینسر اور مدافتی نظام کی کمزوری بلیک فنگس کی بڑی وجہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بلیک فنگس بعد میں آنکھوں اور دماغ کو نشانہ بناتا ہے جس سے مریض کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد آنکھوں کی بینائی یا پھر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ معالجین نے بتایا کہ جراحیوں کے بعد مریضوں کی حالت میں بہتری آرہی ہے۔ پرنسپل جی ایم سی جموں نے بتایا ’’ابتک جی ایم سی میں بلیک فنگس سے ایک ہی شخص فوت ہوا ہے لیکن متاثرہ اور مشوک دونوں زمرے میں آنے والے مریضوں کا علاج چل رہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 21مئی کو اسپتال میں ایک 40سالہ شخص بلیک فنگس سے فوت ہوگیا تھا ۔