جموں //جموں صوبہ میں جمعہ کے روز بھی مکمل طور پر لاک ڈائون رہا اور جہاں ٹرانسپورٹ اور بازار سنسان نظر آئے وہیں مساجد میں بھی ویرانی تھی اور نماز جمعہ کی ادائیگی نہ ہوسکی ۔اگرچہ کئی اضلاع میں لازمی خدمات کی فراہمی والی دکانیں کھلی رہیں تاہم رام بن میں انتظامیہ نے سخت بندشیں عائد کررکھی تھیں اور اشیائے ضروریہ والی دکانوں کو بھی نہیں کھلنے دیاگیا جبکہ ضلع اُدھمپور میں گھر گھر راشن و دیگر اشیاء فراہم کی گئیں ۔ڈپٹی کمشنر رام بن ناظم ضیا خان نے گزشتہ شب ہی ایک ٹوئٹ کے ذریعہ کہاکہ احتیاطی اقدامات کے طور پر جمعہ کے روز مکمل لاک ڈائون رہے گا اور لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ گھروں کے اندر ہی رہیں کیونکہ اشیائے ضروریہ والی دکانیں بھی بند رکھی جارہی ہیں ۔جموں شہر و دیگر علاقوں میں بھی مکمل بند رہااوربارشوں کی وجہ سے بھی لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل پائے لیکن جگہ جگہ پولیس کی تعیناتی نے بھی انہیں نکلنے نہیں دیا ۔
اس دوران کئی جگہوں سے پولیس اور پیرا ملٹری فورسزکی طرف سے زیادتی برتنے کی شکایات آئی ہیں ۔لوگوںنے الزام عائد کیاکہ انہیں ضروری اشیاء کی خریداری کیلئے بھی باہر نہیں نکلنے دیاجارہا ۔سانبہ و دیگر اضلاع میں انتظامیہ اشیائے ضروریہ والی دکانیں کھولنے کیلئے وقت معین کیاہے ۔پولیس کی طرف سے حراساں کئے جانے کی شکایات جموں سے بھی سامنے آئی ہیں تاہم ڈپٹی کمشنر جموں سشما چوہان کاکہناہے کہ اشیائے ضروریہ پر کوئی قدغن عائد نہیں کی گئی ۔انہوںنے اشیائے ضروریہ کی نقل و حرکت سے جڑے پاس ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل میٹرولوجی کے ذریعہ جبکہ دوائیوں سے جڑے پاس ڈپٹی کنٹرولرڈرگس کے ذریعہ جاری کرنے کی اطلاع دی ہے ۔ادھرضلع انتظامیہ کی طرف سے سخت بندشیں عائد کئے جانے کے سبب کشتواڑ کی تمام مساجدمیںنماز جمعہ ادا نہ ہوسکی اور لوگوں کو گھروں میں ہی نمازظہر ادا کرنی پڑی۔ جہاں انتظامیہ نے سخت پابندیاں عائد کی تھیں وہیںکل شام مساجد کے ائمہ نے بھی لوگوں سے گزارش کی تھی کہ نماز کی ادائیگی گھروں میں ہی ادا کریں اور مساجد کا رخ نہ کریں ۔جمعہ کے پیش نظر انتظامیہ کی طرف سے بھی سخت بندشیں عائد رہیں اور مساجد و خانقاہوں کے باہر بھاری تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کی نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔اگرچہ کچھ لوگ گھروں سے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے مساجد کی طرف آئے بھی لیکن انہیں گھر واپس بھیج دیاگیا ۔اس دوران کورونا وائرس سے بچاؤ اور اس کے اثرات کو محدود کرنے کیلئے ائمہ اور حکام کی اپیل پر ضلع رام بن کی جامعہ مساجد میں نماز جمعہ کومختصر اور محدود کیاگیا اور بیشتر لوگوں نے نماز ظہر گھروں میں ادا کی۔ قصبہ بانہال، شاہراہ پر واقع نوگام بانہال اور بٹوت کے درمیان جامعہ مساجد میں نماز جمعہ یا تو ادا ہی نہیں کی گئی یا امام اور چند مقتدیوں کے ساتھ مختصر اور محدود کی گئی۔ باقی علاقوں کی طرح ضلع رام بن کے علماء نے بھی نماز جمعہ کے بجائے لوگوں کو گھروں میں نمازظہراداکرنے کی تلقین کی تھی۔