یاتریوں، سیاحوں، مقامی باشندوں اور تاجروںکیلئے یکساں طور مفید،سفر سستا،بکنگ تقریباً صد فیصد
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جب وزیر اعظم نریندر مودی نے 6جون 2025کو تاریخی 272کلومیٹر طویل ادھم پور-سرینگر-بارہمولہ ریلوے لنک کا افتتاح کیا تو یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ بعد ازاں 30 اپریل 2026 کو مرکزی وزیر ریلوے ایشنوی ویشنو نے 20 کوچز پر مشتمل جدید جموں توی-سرینگر وندے بھارت ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھائی۔2مئی کو باقاعدہ آغاز کے بعد صرف دس دنوں میں ان چار ٹرین سروسز نے دونوں سمتوں میں مجموعی طور پر 44,727مسافروں (11مئی تک) کو سفر کرایا، جس کے بعد یہ سروس جموں و کشمیر کی ایک اہم لائف لائن بن کر ابھری ہے۔ اپنے پہلے ہی ہفتے میں ان ٹرینوں نے 28,762مسافروں (8مئی تک) کو سفر کی سہولت فراہم کی۔اس راہداری پر وندے بھارت کی دو جوڑی سروسز چل رہی ہیں۔ ٹرین نمبر 26401(جموں توی تا سرینگر) اور واپسی سروس 26402(سرینگر تا جموں توی) منگل کے علاوہ ہفتے میں چھ دن چلتی ہے، جبکہ ٹرین نمبر 26403(جموں توی تا سرینگر) اور واپسی سروس 26404(سرینگر تا جموں توی) بدھ کے علاوہ تمام دن دستیاب رہتی ہے۔ اس طرح یہ سروس ہفتے میں کم از کم پانچ دن جموں-کشمیر راہداری پر روزانہ چار ٹرینوں کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
توقعات سے بڑھ کر کامیابی
266کلومیٹر طویل اس روٹ پر اب وندے بھارت کی دو جوڑی سروسز چل رہی ہیں، جس سے دونوں جانب کے مسافروں کو روزانہ کم از کم ایک اور اکثر دنوں میں دو سفری متبادل دستیاب ہیں۔ جن دنوں دونوں جوڑیاں چلیں، مسافروں کی تعداد تقریباً مکمل گنجائش تک پہنچ گئی۔3 مئی کو 4,977،8مئی کو 4,955،9مئی کو 5,284،10مئی کو 5,657اور 11مئی کو 5,024مسافروں نے سفر کیا۔پہلے جہاں 8کوچز والی ٹرین مکمل بھر جاتی تھی، اب 20کوچز والی ٹرین بھی تقریباً مکمل گنجائش تک پہنچ رہی ہے، جو اس روٹ پر بڑھتی ہوئی سفری طلب کو ظاہر کرتا ہے۔جن دنوں صرف ایک جوڑی سروس دستیاب رہی، 5مئی کو اس کی اوسط گنجائش 95.03فیصد جبکہ 6مئی کو 94.79فیصد رہی۔ ہفتہ اور اتوار کو سب سے زیادہ رش دیکھنے میں آیا اور صرف ان دو دنوں میں تقریباً 11ہزار مسافروں نے سفر کیا۔ 10مئی کو اتوار کے دن ٹرین کی گنجائش 98.21فیصد تک پہنچ گئی، جو کشمیر میں سیاحت کے بڑھتے امکانات کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
سب کیلئے مفید ٹرین
یہ اعداد و شمار محض مسافروں کی تعداد نہیں بلکہ ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہیں۔ اب یاتری، طلبہ، سرکاری ملازمین اور تاجر پہلی بار بغیر کسی رکاوٹ کے جموں اور سرینگر کے درمیان سفر کر رہے ہیں۔سیاح، جن کے لیے پہلے وادی کشمیر تک رسائی ایک مشکل مرحلہ سمجھی جاتی تھی، اب چناب اور انجی پل جیسے انجینئرنگ کے حیرت انگیز شاہکاروں سے گزرتے ہوئے وندے بھارت کے آرام دہ سفر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ یہ ٹرین منفی 20 ڈگری سیلسیس تک کے درجہ حرارت میں چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے یہ برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے دوران بھی ایک قابلِ اعتماد سفری ذریعہ بن جاتی ہے، جب قومی شاہراہ کئی دنوں تک بند رہتی ہے۔
کم خرچ اور آرام دہ سفر
وندے بھارت اس راہداری پر سب سے سستا سفری متبادل بھی ہے۔ چیئر کار کا ٹکٹ، جس میں کھانا بھی شامل ہے، ہوائی سفر کے مقابلے میں کہیں کم قیمت پر دستیاب ہے۔ شیئرڈ ٹیکسی کا کرایہ بھی اس سے زیادہ پڑتا ہے جبکہ نجی ٹیکسی کئی گنا مہنگی ہے اور شاہراہ کی بندش کی صورت میں غیر یقینی صورتحال بھی رہتی ہے۔جموں-سرینگر وندے بھارت صرف دو شہروں کو نہیں جوڑتی بلکہ دنیا کے خوبصورت ترین ریلوے راستوں میں سے ایک کا یادگار تجربہ بھی فراہم کرتی ہے۔ جموں کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے لے کر چناب اور انجی کے فلک بوس پلوں، ہمالیائی سرنگوں اور کشمیر کی حسین وادیوں تک ہر کلومیٹر ایک منفرد تجربہ ہے۔ہندوستانی ریلوے نے اس غیر معمولی سفر کو اپنی آپریشنل لاگت سے بھی کم قیمت پر دستیاب بنایا ہے تاکہ ہر طبقے کے لوگ اس سفر سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اب ’’جنت نظیر کشمیر‘‘ صرف ایک خواب نہیں بلکہ ایک ٹرین ٹکٹ کی دوری پر ہے۔
کشمیر کے حسین موسم کے عین مطابق آغاز
وندے بھارت سروس کی توسیع ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کشمیر میں گرمیوں کا حسین موسم شروع ہو چکا ہے۔ جب وادیاں پھولوں سے مہک رہی ہیں، ڈل جھیل اپنی خوبصورتی بکھیر رہی ہے اور پہلگام و گلمرگ جیسے مقامات ملک بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں، ایسے میں اس سروس کا آغاز نہایت موزوں ثابت ہوا ہے۔اب سیاح جموں توی سے روانہ ہو کر پانچ گھنٹوں سے کم وقت میں سرینگر پہنچ سکتے ہیں، جو دیگر تمام متبادل ذرائع کے مقابلے میں زیادہ تیز، سستا اور قابلِ اعتماد سفر ہے۔ آنے والے سیاحتی سیزن میں مسافروں کی تعداد میں مزید اضافے کی توقع ہے اور ہندوستانی ریلوے اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔جموں توی-سرینگر وندے بھارت ایکسپریس صرف مسافروں کو نہیں بلکہ ایک زیادہ مربوط اور خوشحال جموں و کشمیر کے خواب کو بھی اپنی منزل کی طرف لے جا رہی ہے۔