پہلے دن دو ٹرینوںمیں دو طرفہ تقریباً4ہزار مسافروںکا سفر
عظمیٰ نیوزسروس
جموں //جموں اور سرینگر کے درمیان پہلی براہِ راست وندے بھارت ایکسپریس کی کمرشل سروس ہفتہ کے روز زبردست جوش و خروش کے ساتھ شروع ہو گئی، جو ریلوے وزیر اشونی ویشنو کے افتتاح کے دو دن بعد عمل میں آئی۔حکام کے مطابق 20 کوچز پر مشتمل یہ ٹرین منگل کے علاوہ ہفتے میں چھ دن چلے گی اور دونوں شہروں کے درمیان سفر کا وقت کم کر کے پانچ گھنٹے سے بھی کم کر دے گی۔یہ ٹرین پہلے سرینگر سے شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا تک چلتی تھی، جسے اب بڑھا کر جموں توی تک کر دیا گیا ہے۔پھولوں سے سجی یہ ٹرین جموں ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 7سے سرینگر کے لیے روانہ ہوئی، جو خطے میں ریلوے رابطہ بڑھانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ہے۔ جموں ڈویژن کے سینئر منیجر اُچت سنگھل نے کہا ’’آج کا دن ایک نئے دور کا آغاز ہے، جہاں جموں سے سرینگر کے درمیان وندے بھارت ٹرین سروس کا آغاز جدید ریلوے سفر اور ‘میک اِن انڈیا’ پہل کی ایک بڑی کامیابی ہے‘‘۔یہ نیم تیز رفتار ٹرین جموں توی اور سرینگر کے درمیان تقریباً 272 کلومیٹر کا فاصلہ 4گھنٹے 50منٹ میں طے کرے گی، جو سڑک کے ذریعے حالات کے مطابق 12سے 24گھنٹے لیتا تھا۔اس روٹ پر روزانہ دو جوڑی ٹرینیں چلیں گی، جس سے مسافروں، سیاحوں اور یاتریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔شیڈول کے مطابق پہلی ٹرین صبح 6:20بجے جموں توی سے روانہ ہو کر 11:10بجے سرینگر پہنچے گی، جس کے درمیان شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا، ریاسی اور بانہال میں اسٹاپ ہوں گے۔ واپسی پر ٹرین دوپہر 2 بجے سرینگر سے روانہ ہو کر شام 6:50 بجے جموں توی پہنچے گی۔افتتاحی سفر میں پہلی ٹرین میں تقریباً 940مسافر سوار تھے جبکہ دوسری ٹرین میں 995مسافر سفر کر رہے تھے۔ واپسی پر دونوں ٹرینوں میں مجموعی طور پر 1990سے زائد مسافروں نے سفر کیا اور اس سہولت سے بھرپور لطف اٹھایا۔جموں سے سفر کرنے والے مسافروں نے اس سروس کو ’’خواب کی تعبیر‘‘اور خطے کے لیے’’گیم چینجر‘‘ قرار دیا۔بانہال کے ایک مسافر نے کہا کہ یہ ٹرین نہ صرف وقت بچائے گی بلکہ ہائی وے سفر کی غیر یقینی صورتحال کو بھی ختم کرے گی۔انکاکہناتھا’’یہ سفر بغیر جام، آرام دہ اور تقریباً 600روپے میں سستا بھی ہے، جو خاص طور پر سیاحت کے لیے مفید ہے‘‘۔جموں کی سنیتا شرما نے اسے دونوں خطوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا ’’یہ کشمیریوں کے لیے خواب کی تعبیر ہے اور جموں کے لیے ایک اہم سنگِ میل، جو دونوں علاقوں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط کرے گا‘‘۔اکھنور کے مرتضیٰ شریف نے ایک ہی دن میں آنے جانے کی سہولت کو سراہتے ہوئے کہا کہ’’ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ صبح جا کر شام کو واپس آ سکتے ہیں، یہ ہر طبقے کے لیے فائدہ مند ہوگا‘‘۔کٹھوعہ کے رہائشی ششیر راجن نے کہا کہ ہائی وے اکثر بند رہتے ہیں، اس لیے یہ سروس رسائی کو بہتر بناتی ہے،اب سفر تیز، آسان اور زیادہ آرام دہ ہو گیا ہے۔امرتسر سے آئے سیاح اروند سنگھ نے کہا کہ یہ ٹرین سروس تحفظ کا احساس فراہم کرتی ہے اور انہوں نے کشمیر میں ریلوے رابطہ مضبوط بنانے پر حکومت کی تعریف کی، جسے انہوں نے ’بدلتا ہوا ہندوستان‘ قرار دیا۔ٹرین کے پائلٹ کے مطابق یہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو بھارت میں دستیاب ہے۔