شاہد ٹاک
شوپیان// نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے) نے پیر کو جموں و کشمیر میں کالعدم جماعت اسلامی سے منسلک تین مقامات پر تلاشی لی۔ این آئی اے کی جانب سے پیر کی صبح سویرے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں انجام دی گئیں، جن کے دوران مولو چتراگام زینہ پورہ کے رہائشی شہزادہ اورنگزیب کے گھر کی تلاشی لی گئی۔ شہزادہ اورنگزیب جماعت اسلامی ضلع شوپیان کے سابق امیر رہ چکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق این آئی اے کی ٹیم پیر کی علی الصبح پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کے ہمراہ مذکورہ رہائش گاہ پر پہنچی، جہاں تلاشی کارروائی انجام دی گئی ۔
یاد رہے کہ حکومت ہند نے سال 2019 میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون(یو اے پی اے)کے تحت پابندی عائد کی تھی، جس میں بعد ازاں 2024 میں مزید توسیع کی گئی۔ این آئی اے نے امام صاحب علاقے میں قائم جامعہ سراج العلوم پر بھی چھاپہ مار کارروائی انجام دی۔ قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے جامعہ سراج العلوم کو یو اے پی اے کے تحت ایک غیر قانونی ادارہ قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کی تھی۔سرینگر میں بھی خواتین کیلئے مخصوص ایک دارالعلوم کی تلاشی لینے کی اطلاعات ہیں۔ایک سرکاری بیان کے مطابق، سرینگر اور شوپیاں اضلاع میں تلاشی لی گئی اور اس کے نتیجے میں مالیاتی دستاویزات اور الیکٹرانک آلات کی بازیابی کی گئی جن کا شبہ ہے کہ وہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں جماعت اور اس سے وابستہ ٹرسٹوں اور انجمنوں کی سرگرمیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ جی ای آئی دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے میں ملوث تھی، مبینہ طور پر تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال سمیت خیراتی کاموں کے لیے عطیات کی آڑ میں ہندوستان کے اندر اور بیرون ملک رقم جمع کرتی تھی۔ ایجنسی نے کہا کہ ان فنڈز کو پرتشدد اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کی طرف موڑ دیا گیا اور ساتھ ہی منظم نیٹ ورکس کے ذریعے حزب المجاہدین جیسی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو بھیجا گیا۔