عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جموں وِنگ میں چیف جسٹس کورٹ روم میں سابق جج و قائمقام چیف جسٹس، جسٹس وی کے جھانجی کے اِنتقال پر تعزیت پیش کرنے کے لئے فل کورٹ ریفرنس منعقد کیا گیا۔ جسٹس وی کے جھانجی کا انتقال 23 ؍فروری 2026 ء کو ہوا تھا۔ فل کورٹ ریفرنس ہائی کورٹ کی دیرینہ کنونشن اور اِدارہ جاتی روایات کے مطابق منعقد کیا گیا۔ریفرنس میں ہائی کورٹ کے تمام جج صاحبان نے شرکت کی جس میں جموں وِنگ کے جج صاحبان نے ذاتی طور پر جب کہ سری نگر وِنگ کے جج صاحبان نے اِس میں بذریعہ ورچیول موڈ شرکت کی ۔اِس موقعہ پر جسٹس وی کے جھانجی کے اہل خانہ، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس صاحبان اور سابق جج ، سینئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، جموں اور سری نگر میں تعینات ڈپٹی سالیسیٹر جنرل آف انڈیا، جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں کے صدر، سینئر وکلا، پرنسپل ڈِسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جموں، عدالتی افسران اور رجسٹری کے افسران بھی موجود تھے۔ اِس کے علاوہ سری نگر وِنگ کے ہائی کورٹ کے افسران، اہلکار اور وکلا نے بذریعہ ورچیول موڈ کارروائی میں شرکت کی۔اِس موقعہ پر سینئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور صدرجموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموںنے اپنے تعزیتی خطابات میں مرحوم جسٹس وی کے جھانجی کے شاندار عدالتی کیریئر اور نظامِ انصاف کے لئے ان کی گرانقدر خدمات کو یاد کیا۔ اُنہوں نے مرحوم کی روح کے ابدی سکون اور سوگوارکنبے کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی ہمت کے لئے دعا کی۔چیف جسٹس جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس ارون پلی نے اپنے تعزیتی خطاب میں جسٹس وی کے جھانجی کے نمایاں عدالتی کیریئر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ قانون پر ان کی گہری دسترس اور انصاف سے وابستگی نے لیگل کمیونٹی پر دیرپا اثرات چھوڑے ہیں۔ اُنہوں نے پیچیدہ قانونی مسائل کو حل کرنے کی جسٹس جھانجی کی صلاحیت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔چیف جسٹس نے ہائی کورٹ کے تمام جج صاحبان کی جانب سے جسٹس جھانجی کی زندگی اور خدمات پر اجتماعی خراجِ عقیدت اور تشکر پیش کیا۔تقریب کے اِختتام پر مرحوم کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور باقی دن کے لئے عدالت کی کارروائی معطل کر دی گئی۔