سرنکوٹ//جاب پالیسی اور دیگر مطالبات کے حق میں محکمہ دیہی ترقی کی نگرانی میں چلائی جارہی مہاتماگاندھی نریگا سکیم کے تحت کام کرنے والے ملازمین نے پوری ریاست کی طرح سرنکوٹ کے تینوں بلاکوںسرنکوٹ،بفلیاز اور لسانہ میں بھی کام چھوڑ ہڑتال کی ۔اس موقعہ پر ا ن ملازمین نے دھرنادیتے ہوئے حکام کے خلاف نعرے بازی کی اور الزام عائد کیاکہ ان کے مستقبل کو تاریک بنادیاگیاہے ۔تیمور خان، یاسر خان، ظہیر افضل ، حفیظ خان ، آفتاب احمد ، ندیم خان اور شوکت کوہلی وغیرہ نے کہاکہ حکومت نے جاب پالیسی مرتب نہ کرکے انہیں امتحان میں ڈال دیاہے ۔ان کاکہناتھاکہ ان سے اس سے قبل ہونے والی ہڑتالوں کے دوران یہ وعدہ کیاگیاتھاکہ جاب پالیسی مرتب کی جائے گی اور انہیں محکمہ میں ضم کیاجائے گالیکن اب تک اس سلسلے میں کوئی بھی اقدام نہیں کیاگیا اور ان کی خدمات کی کوئی قدر ہی نہیں ۔ ان کاکہناتھاکہ حکام انہیں محفوظ مستقبل فراہم کرنے کے بجائے نئے نئے سرکولر جاری کرکے ملازمت سے فارغ کرنے کے درپہ ہیں ۔انہوںنے گورنر انتظامیہ سے مانگ کی کہ ا ن کی جائز مانگیں فوری طور پر پوری کی جائیں اور جاب پالیسی مرتب کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ طفل تسلیوں سے کام نہیں چلے گا اور نہ ہی نام نہاد کمیٹیاں تشکیل دینے سے ان کا بھلا ہوگا۔ انہوں نے بتایاکہ چھ ماہ قبل حکومت کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے دو ماہ میں ان کے مطالبات کے حل کے حوالے سے سفارشات پیش کرناتھیں تاہم اب تک اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ ان سے بے شمار کام کروایاجاتاہے لیکن بدلے میں معمولی سے تنخواہ دی جاتی ہے اور مستقبل بھی غیر محفوظ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انہوں نے محکمہ کو دس دس برس دیئے ہیں اور اب وہ اپنے ساتھ مزید ظلم و استحصال برداشت نہیں کریں گے ۔