اعجاز میر
سرینگر // بڈگام اور پونچھ اضلاع کو ایک دوسرے کیساتھ جوڑنے کیلئے تین شاہرائوں پر کام ہورہا ہے جس میں پونچھ گلمرگ سرینگر سڑک تقریباً مکمل ہوگئی ہے اور باور کیا جارہا ہے کہ اس پر اپریل یا مئی میں ٹریفک کی آمد و رفت ہوسکتی ہے۔لیکن ان پروجیکٹوں میں سب سے اہمتوسہ میدان کو پونچھ اور بڈگام سے جوڑنے کیلئے کیبل کار پروجیکٹ ہے جس کیلئے کچھ سامان پونچھ پہنچا دیا گیا ہے۔اس منصوبے سے خوبصورت توسمیدان کو بیک وقت پونچھ اور ستھارن بڈگام سے جوڑ کر ٹورازم کو بڑے پیمانے پر فروغ ملے گا۔ حکومت نے تین سال قبل پروت مالا کے تحت اس ملٹی کروڑ مرکزی پروجیکٹ کو منظوری دی ہے تاکہ آبادی کے تمام طبقات کو فائدہ پہنچانے اور سیاحتی سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے لیے ایک جامع روپ وے نیٹ ورک تیار کیا جا سکے۔ ان منصوبوں میں 120کروڑ روپے کی لاگت سے 2.5کلومیٹر لورن پونچھ سے توسہ میدان اور 120کروڑ روپے کی لاگت سے 2.5کلومیٹر ستھارن توسہ میدان-بڈگام روپ وے شامل ہیں۔
توسہ میدان
گریٹر لیکس ٹریک کی شروعات پونچھ سے توسمیدان کیبل کار پروجیکٹ میں دو حصے شامل ہیں۔لورن پونچھ سے توسہ میدان اور ستھارن بڈگام سے توسہ میدان پروتمالا سکیم کے تحت جموں و کشمیر کے وسیع تر روپ وے کی ترقی کا حصہ ہے۔اس منصوبے کو بولیوں کو منسوخ کرنے کے ساتھ عمل درآمد میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، لیکن 2025 میں ڈی پی آر (تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ )کے لیے نئی بولیوں کی توقع کی گئی تھی، جس میں ماحولیاتی سیاحت پر توجہ دی جائے گی تاکہ ان علاقوں کو ایک بڑے سیاحتی منصوبے میں ضم کیا جائے گا۔ اس کلیدی منصوبے کا مقصدتوسمیدان کو ایک اہم سیاحتی مقام کے طور پر تیار کرنا، اسے دودھ پتھری اور یوسمرگ سے جوڑنا، سیاحتی سرکٹ بنانا، اور مقامی معیشت اور روزگار کو فروغ دینا ہے۔اس منصوبے پرعمل درآمد کرنے والی ایجنسی نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ ہے جوسڑکوں کی نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کے تحت (ایم او آر ٹی ایچ )ان منصوبوں کو اکثر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ہینڈل کرتی ہے۔اس منصوبے کی سالوں سے منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن اسکو شروع کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، بشمول عدالتی مقدمات اور ڈی پی آر کی تیاری کے لیے بولی کے عمل میں تاخیر کی وجہ سے روپ ویز کے لیے منسوخ بولی شامل ہے۔حالیہ پیش رفت کے تحت 2025 کے اوائل میں این ایچ آئی ڈی سی ایل کی طرف سے مختلف روپ ویز کے لیے ڈی پی آر کے لیے بولیاں مدعو کی گئی تھیں جس میں توسہ میدان پونچھ اور ستھارن توسہ میدان شامل ہے۔ان اہم روابط کے لیے نئے سرے سے کوششوں کی تجویز دی گئی ہے۔سیاحت کے لحاظ سے اونچائی والے توسہ میدان ہر موسم تک رسائی فراہم کرے گا، جو ٹریکرز اور فطرت سے محبت کرنے والوں کے لئے ایک اہم مقام ہے۔ توقع ہے کہ اس خطے میں تبدیلی آئے گی، ملازمتیں پیدا ہوں گی، اور خان صاحب اور پونچھ جیسے علاقوں میں خوشحالی آئے گی۔