نرگس میر
استاد کو خدا نے ایسا مقام دیا ہے،جو دنیا میں اور کسی کو نہیں ہے۔استاد قوم کا خدمتگار ہی نہیںبلکہ اُستاد سماج کا معمار ہوتا ہے۔ہم جہاں مزدوروں کے حقوق کے دفاع کے لئے Labours Day مناتے ہیں،کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئےSports Day مناتے ہیں،مائووں کی عظمت کے لئے Mothers day مناتے ہیں تو اسی طرح قوم کے معماروںعظیم خدمات سے منسوب دن کو ’’یوم اساتذہ ‘‘ کے طور مناتے ہیں،اور کیوں نہ منائیں،والدین کی گود سے نکل کر بچےاساتذہ کی رہبری میں ہی جوانی کی دہلیز پر پہنچ جاتے ہیں،اس لئے اساتذہ زیر تعلیم بچوں کے لئے روحانی والدین بھی کہلاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اگر اساتذہ نہ ہوتے تو انسانی معاشرےدینی ،دُنیوی اور اخلاقی اقدارسے نابلد ہوتے، جہالت کا دور دورہ ہوتا، صحیح اور غلط میں فرق نہ ہوتا،حق اور ناحق کا پتہ نہیں چلتا،چھوٹے اور بڑے کی قدر نہ ہوتی ،گویازندگی کے کسی بھی شعبے میں ترقی ممکن نہ ہوتی اورنئی نئی ایجادات بھی سامنے نہ آتیں۔
ا گرچہ ہر دن ’روزِ معلم‘ ہے، لیکن ایک خاص دن کو ان سے منسوب کرنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اُن کے مقام اور رُتبے کو قومی سطح پر بلند کیا جائے۔ یعنی استاد کے احترام کا دن، استاد کی حوصلہ افزائی کا دن، استاد سے ایک نئے جذبے کے ساتھ تجدیدِ عہد کا دن، معاشرے میں اُستاد کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کا دن۔، آج ہم اپنے اساتذہ کرام سے بھی تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم کبھی ان کی زحمتوں کو رائیگاں نہیں ہونے دیں گے۔ہم ان کی بے لوث خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اُن کے حوصلوں کی قدردانی کرتے ہیں۔ایک استاد بچوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ بے شک والدین بچوںکی آسائش و آرام اور تندرستی کے تمام سامان مہیا رکھتا ہے۔ مگر ایک اُستادان بچوں کو وہ چیزیں دیتے ہیں جن سے بچوں کے والدین کی بھی دنیا و آخرت سنوارجاتی ہے۔اس لئےہمیشہ استاد کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔
حضرت علیؑ کا فرمان ہے:’’جس نے مجھے ایک حرف سکھایا، اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا‘‘۔ جس معاشرے میں جتنا اُستاد کا احترام زیادہ ہوگا، اُتنا ہی وہ معاشرہ علمی اور دوسرے میدانوں میں زیادہ ترقی کر پائے گا۔ ترقی یافتہ ممالک میں اُستاد کو سرکاری وزیروں سے بھی زیادہ اہمیت اور احترام حاصل ہے، اسی وجہ سے وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، جبکہ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہونے اور آیات و روایات میں استاد کا رُتبہ اور مقام درج ہونے کے باوجود، ہمارےیہاں اُن کا وہ احترام نہیں کیا جاتا،جس کے وہ حقدار ہیں۔حق بات تو یہی ہے کہ ہمارے اوپر اپنے اساتذہ کے جتنے حقوق ہیں،اُن سب کی ہم ادائیگی نہیں کرپاتے ہیں۔
علامہ اقبال کا ایک شعر ہے۔؎
تیرے علم اور محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کرساز فطرت میں نوا کوئی
” There is no limit to ur knowledge n love
In the instrument of nature there is no sweeter song than u”
ہم اپنے اساتذہ کرام کو سلام پیش کرتے ہیں، جنھوں نے اپنی آسائشوں کو ہماری خاطر قربان کیا، جنہوں نے ہمیں شفقت ِپدری سے نوازا اور ہمیں بلند اہداف سے آشنا کیا،جنہوں نے ہمیں سوسائٹی میں اچھے کاموں کی تجویز دی اور ہماری کامیابی کی خاطر طرح طرح کی زحمتیں اٹھائیں، اُنہیں ہم ہمیشہ اپنی نیک دُعائوں میں یاد رکھتے ہیں۔اگر ہمیں معاشرے میں تعلیم و تربیت کو عام کرنا ہے اور اپنی نئی نسل کے مستقبل کو بنانا ہے تو سب سے پہلے اچھے اساتذہ سے تربیت حاصل کرنا ہوگی، پھر ُان کے احترام کو معاشرے میں عام کرنا ہوگا، اُن کی ضروریات کو پورا خیال رکھناہوگا، تاکہ وہ بغیر کسی مشکل کے اپنی توجہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر صرف کرسکیں۔
جب معاشرے میں اساتذہ کا احترام بڑھے گا، تب اچھے اچھے افراد اس فیلڈ کا انتخاب کریں گے، جب اچھے افراد اس لائن میں آجائیں گے، تب ہماری اولاد کے لئے اچھے اساتذہ میسر آئیں گے، جب بچوںکے لئے اچھے اساتذہ فراہم ہوں گے، تب وہ اچھے شاگردوں کی بھرپور تربیت کرسکیں گے، جب ایسے افراد سے تربیت یافتہ افراد معاشرے میں قدم رکھیں گے تو ان کے قدم سے معاشرہ ہر جہت سے رشد اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
یاد رکھئے کہ بہترین اُستاد ہی بہترین نسلوں کی تربیت کا ضامن ہوا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاگو ہوں کہ ربّ العزت ہمارے گذشتہ اور موجود اساتذہ کرام کی ان بے لوث خدمات کو شرف قبولیت عطا کرے اور ہمیں ان سے بھرپور رہنمائی سے ملک و ملت کی ترقی اور سربلندی کے لئے وسیلہ بنانے کی توفیق دے۔ آمین
[email protected]