ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی جانب سے لداخ کے طلبہ کے اعزاز میں ظہرانہ دیاگیا
عظمیٰ نیوزسروس
نئی دہلی//مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز اور وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی و خلائی امورڈاکٹر جتندر سنگھ نے لداخ سے آئے طلبہ کے ایک وفد کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ پر خصوصی ظہرانے کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نوجوانوں کے بلند حوصلے اور ترقی کی خواہش کو سراہتے ہوئے بااختیار نوجوان نسل، قومی یکجہتی اور ابھرتے مواقع پر کھل کر اور حوصلہ افزا گفتگو کی۔طلبہ سے پرتپاک ملاقات کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ تعلیمی اور ثقافتی تبادلے نوجوان ذہنوں کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے ماضی کے طلبہ تبادلہ پروگراموں، خصوصاً شمال مشرقی ریاستوں کے نوجوانوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایسے اقدامات دور دراز علاقوں کے طلبہ میں جھجک ختم کرنے اور اعتماد بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا جس میں لوہڑی، بیہو، مکر سنکرانتی اور پونگل جیسے تہوار ایک ساتھ منائے گئے، جس سے طلبہ کو یہ احساس ہوا کہ اگرچہ روایات مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن پورے بھارت میں جشن کی روح یکساں ہے جو جذباتی ہم آہنگی کو مضبوط کرتی ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی نے جغرافیائی رکاوٹوں کو مؤثر طور پر ختم کر دیا ہے اور “چھوٹے مقامات” کا تصور باقی نہیں رہا۔ ڈیجیٹل رسائی اور انفراسٹرکچر کی توسیع کے باعث اب ملک کے کسی بھی کونے سے طلبہ سول سروسز سمیت مسابقتی شعبوں کی تیاری کر سکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ کسی بھی راستے کا انتخاب کرنے سے قبل اپنی صلاحیتوں اور اندرونی قوت کو پہچانیں، کیونکہ خود شناسی ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔گزشتہ دہائی میں نریندر مودی کی قیادت میں حکمرانی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ متعدد سرکاری اسکیموں اور اقدامات نے نوجوانوں کے لیے مختلف شعبوں میں ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ محنت اور عزم رکھنے والے ہر نوجوان کے لیے حکومتی تعاون دستیاب ہے۔لداخ میں تیز رفتار ترقی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے نئے کالجوں کے قیام، اعلیٰ تعلیمی اداروں کی توسیع اور انجینئرنگ، میڈیکل اور سول سروسز کے مواقع کی فراہمی کو نمایاں پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کے لداخ کے متعدد دوروں، حتیٰ کہ شدید سردیوں میں کیے گئے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے اسے خطے اور اس کے عوام سے گہری وابستگی کا مظہر قرار دیا۔یہ طلبہ “اسٹوڈنٹ ایکسپیرینس اِن ریجنل انڈراسٹینڈنگ (SERU)” پروگرام کے تحت آئے تھے، جس کا مقصد ملک کے مختلف خطوں کے طلبہ کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور تعلیمی روابط کو فروغ دینا ہے۔