جموں//جسمانی طورخاص افراد اور 70 سال سے زیادہ عمر کے مستحق افراد کو پنشن کے دائرے میں لا کر سو فیصد نشانہ حاصل کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حکومت کے فلاحی پروگرام کا مقصد جموں کشمیر میں سماجی ترقی کو یقینی بنانا ہے ۔ گذشتہ ایک سال کے دوران جموں کشمیر کے سماجی بہبود محکمے کو کئی نئی جہتیں ملی ہیں ۔ کئی نئی سکیموں کو متعارف کرنے اور حکومت کی موجودہ فلاحی پروگراموں میں ترمیم کے نتیجے میں محکمہ کے کام کاج میں بہتری آنے کے ساتھ ساتھ غریب لوگوں کی سماجی و اقتصادی حالت میں بھی بہتری آئی ہے ۔ جو نئے اہداف مقرر کئے گئے ہیں اُن کا مقصد نہ صرف زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فلاحی سکیموں کے دائرے میں لانا ہے بلکہ غریب لوگوں کو غریبی سے نجات دلانا بھی ہے تا کہ وہ سماجی انصاف اور بااختیاری کو محسوس کر سکیں ۔ خواتین اور بچوں کی ترقی ، سماجی انصاف اور بااختیاری ، سماجی تحفظ ، اقلیتوں کی ترقی ، شیڈول کاسٹ طبقے کو تعلیمی طور آگے لے جانا اور پہاڑی بولنے والے طبقے کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقوں کی بہتری کیلئے حکومت نے منظم لایحہ عمل اپنایا ہے ۔ ان سکیموں کا مقصد بچوں میں غذایت کی کمی کو دور کرنا ، خواتین اور بچوں کی ترقی کو فروغ دینا ، وظیفوں کے ذریعے غریب بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی جانب راغب کرنا اور انہیں دیگر سہولیات فراہم کرنا ہے اس کے علاوہ مستحق افراد کو تعلیم حاصل کرنے اور خود روز گار یونٹ قائم کرنے کیلئے قرضے فراہم کئے جاتے ہیں ۔ ستمبر 2019 کے 2 تاریخ کو جاری کئے گئے ایس آر او ۔ 518 کی رو سے اقتصادی طور کمزور طبقوں اور بین الاقوامی سرحد کے قریب رہنے والے لوگوں کو ریزرویشن دی گئی جس سے آبادی کے ایک بڑے حصے کو فائدہ ہو گا ۔
سماجی تحفظ
جموں کشمیر میں لاچار اور مجبور افراد کے علاوہ خصوصی ضروریات رکھنے والے لوگوں تک مختلف فلاحی سکیموں کے ذریعے فرائد پہنچائے جا رہے ہیں ۔ جموں کشمیر میں بزرگ، بیوہ اور معذور افراد کیلئے پینشن سکیموں کے تحت 612950 مستحقین کو پینشن کے ذریعے امداد فراہم کی جا رہی ہے ۔ محکمہ نے آرڈر نمبر 04-jk(swd) بتاریخ 13 نومبر 2019 کی رو سے نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام اور انٹی گریٹڈ سوشل سیکورٹی سکیم کے تحت پینشن کے نئے ایک لاکھ 30 ہزار معاملات کو منظوری دی ہے ۔ اس سلسلے میں محکمہ غریب اور مخلوق الحال لوگوں کی نشاندہی کر رہا ہے ۔ محکمہ جموں کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں پینشن کی فراہمی کے تعلق سے سو فیصد اہداف حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے ۔
خواتین کی بااختیاری
وومن ڈیولپمنٹ کارپوریشن جو کہ خواتین کی بااختیاری کیلئے کام کر رہی ہے ، نے 17145 مستحق خواتین /سیلف ہیلپ گروپ ممبران میں قرضوں کی مختلف سکیموں کے تحت 208.15 کروڑ روپے تقسیم کئے ہیں تا کہ وہ روز گار یونٹ قائم کر سکیں ۔ اس سکیم سے براہ راست 85000 خواتین کو فائدہ ہوا ہے ۔ کارپوریشن نے مختلف ٹریننگ پروگراموں کے تحت 7242 خواتین کو مختلف ہنروں اور گھریلو صنعتوں کی تربیت فراہم کی ۔ روز گار یونٹ قائم کرنے کیلئے قرضے کی فراہمی اور تربیت دینے کے علاوہ وومن ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا ہے جس کے تحت 95.50 لاکھ روپے قیمت کے 605852 پٹسن سے بنے پرساد۔تھیلیاں فراہم کی گئیں اور یہ رقم 1700 سیلف ہیلپ گروپ ممبران کو دی گئی جنہوں نے یہ بیگ تیار کئے تھے ۔ اس کے علاوہ وومن ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے مختلف محکموں بشمول تعلیم ، سیاحت ، ریڈ کراس اور انیمل ہسبنڈری کے ساتھ بھی سمجھوتے کئے ہیں جن کے تحت ان محکموں کو فائل ہولڈر فراہم کئے گئے۔ ان سمجھوتوں کے نتیجے میں ملی رقم کو اُن خواتین میں تقسیم کیا گیا جنہوں نے یہ فائل ہولڈر تیار کئے تھے ۔ وومن ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے 42 میلوں کا انعقاد کیا جن سے سیلف ہیلپ گروپوں کے تین لاکھ ممبران نے استفادہ کیا اس کے علاوہ دیگر نمائشوں بشمول آئی آئی ٹی ایف ، سورج کنڈ ، دلی ہارٹ ، شلپا اتسو وغیرہ میں بھی شرکت کیلئے مارکیٹ سپورٹ فراہم کیا جاتا ہے ۔
آئی سی ڈی ایس
نچلی سطح پر عوامی نمائندوں کو شامل کرنے ، مالی نظم وضبط کو یقینی بنانے اور خورد برد کو رُوکنے کے لئے آئی سی ڈی ایس مراکز کے لئے غذا کی حصولیابی کا عمل تبدیل کیا گیا۔ نئے رہنما خطوط کے مطابق رقم ٹریجریوں سے نکال کر حلقہ پنچایتوں کے بینک کھاتوں میں تفویض کرنا ہے تاکہ غذائیت کی چیزیں خرید جاسکیں۔تاہم چاول اور آٹا آنگن واڑی مراکز کے لئے ایف سی آئی سے لگاتار خریدی جائے گی۔ معاون غذا خریدنے سے متعلق غیر مرکوز پالیسی اپریل 2019ء میں شروع کی گئی ۔ آنگن واڑی ورکروںاور ہیلپروں کے لئے مشاہرے کی واگزاری کے نظام میں بھی تبدیلی لائی گئی اور یہ رقم پیشگی میں ٹریجری سے نکال کر گرام پنچایتوں کے بینک اکائونٹوں میں تفویض کی جاتی ہے تاکہ ڈی بی ٹی کے ذریعے سے یہ رقم آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کے بینک کھاتوں میں ڈالی جاسکے۔اِس وقت محکمہ آئی سی ڈی ایس کے تحت 9لاکھ سے زیادہ مستحقین لارہا ہے جن میں بچے ، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شامل ہیں۔اِس میں 11سے 14برس کے عمر کی سکول میں جانے والی بچیاں بھی شامل ہیں۔آئی سی ڈی ایس مستحقین کی سکیم جموںوکشمیر کے تمام آنگن واڑی مراکز میں شروع کی گئی ۔ اِس میں 6ماہ سے 3برس 443985بچے 3سے 6برس کے عمر کے 295990بچے ، 88797حاملہ خواتین، 59198 دودھ پلانے والی مائیں اور 11سے 14برس کی سکولوں سے باہر 17200 بچیاں بھی شامل ہیں۔آئی سی ڈی ایس محکمہ نے رواں مالی سال کے دوران اکتوبر 2019ء تک نمایاں پیش رفت حاصل کی۔ سال 2019-20ء کے لئے سپلمنڑی غذا خریدنے کے لئے مختص 35.36کروڑ روپے میں سے محکمہ نے 14کروڑ روپے صرف کئے جن سے 708281بچے ، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شامل ہیں۔محکمہ نے 372آنگن واڑی ورکروں کے لئے ایک ماہ طویل تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا جب کہ مختلف سکیموں کے تحت 130سی ڈی پی اوز کو تربیت دی گئی۔ پوشن ابھیان کے تحت محکمہ نے اکتوبر مہینے کے آخرتک 60.66کروڑ میں سے14.29کروڑ روپے صرف کئے اور اس مدت کے دوران آنگن واڑی مراکز میں 138298سی بی ایز منعقد کئے گئے ۔ علاوہ ازیں آنگن واڑی ورکروں کو 32474سمارٹ فون وار 29599گروتھ مانیٹرنگ آلات مہیاکئے گئے ۔ پردھان منتری ماترووندھنا یوجنا کے تحت محکمہ نے 40.57کروڑروپے صرف کئے جس سے 118960مستحقین کو مراعات دی گئیں۔ایس اے جی سکیم کے تحت 13254لڑکیوں کو غذائیت اور ہیلتھ ایجوکیشن سے متعلق کونسلنگ فراہم کی گئی جبکہ 1338لڑکیوں کو پبلک خدمات کے تحت رہنمائی کی گئی ۔ آنگن واڑی ورکروں کی طرف 395420بچوں کے آدھار اندراجات عمل میں لائے گئے ۔محکمہ نے مربوط چائیلڈ پروٹیکشن سکیم کے تحت بھی نمایاں پیش رفت حاصل کی ۔ جموںوکشمیر یوٹی میں ایسے 703اداروں کی میپنگ کی گئی جہاں 29125بے گھر بچے رہائش پذیر ہیں۔ ان میں 151 سرکارکی طرف چلائے جارہے ہومز ، این جی اوز کی طرف چلائے جارہے 87ہومز اور دارالعلوم ، آشرمز اور گھنپائوں جیسے 465مذہبی ادارے بھی شامل ہیں۔تنائو میں گزر بسر کرنے والے بچوں کو محفوظ معیار حیات فراہم کرنے کے لئے چائیلڈ ویلفیئر کمیٹیوںکے پاس 4092معالات درج کئے گئے جن میں سے 2303 معاملات نپٹائیں گئے ۔ جبکہ 1580بچوں کو مختلف سہولیات میں رکھا گیا جبکہ 788بچوں کو اپنے والدین کو سونپا گیا۔