جموں//وزیر برائے مال عبدالرحمان ویری نے ایوان کو مطلع کیا کہ تحصیل مڑھوہ کے 96 دیہات میں سے 73 میں جدید بندو بست مکمل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل ڈیجٹل انڈیا لینڈ ریکارڈس مارڈنائیزیشن پروگرام کے تحت سیٹلمنٹ اوپریشنز شروع کرنے سے قبل ہی مکمل کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ باقی ماندہ دیہات میں اراضی بندو بست کا عمل ڈی آئی ایل آر ایم پی کے تحت ہاتھ میں لیا جا رہا ہے جس کیلئے پہلے ہی جے اینڈ کے ایل اے آر ایم اے نے میسرز آر اے ایم ٹیک سلیوشن پرائیویٹ لمٹیڈ کے ذریعے شروع کیا ہے ۔ وزیر ایوان میں چودھری سکھنندن کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے ۔ اس سلسلے میں ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ڈی آئی ایل آر ایم پی کے مرحلہ اول کے تحت جموں اور سرینگر کے دو اضلاع میں پائیلٹ بنیاد پر محکمہ مال کے ریکارڈ کی سکیننگ گراؤنڈ کنٹرول پوائینٹ کے قیام اور ویب پر مبنی انٹر پرائیز کی ترقی کا کام ہاتھ میں لیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سروے ، از سر نو سروے ، ڈیجٹائیزیشن ، سکیننگ اور رجسٹریشن کے کام جموں اور سرینگر اضلاع میں 28 ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیٹلمنٹ کے کام کی سست رفتار کے وجوہات عملے کی کمی نئی انتظامی اکائیوں میں سیٹلمنٹ عملے کی تعیناتی وغیرہ ہیں ۔ وزیر نے کہا کہ ریکارڈ آف رائیٹس /اینول ریکارڈ ز میں غلطیوں کی درستگی کیلئے ایک جامع میکنزم مرتیب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ شخص ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں معاملہ لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعہ 32 کے تحت درج کر سکتا ہے اور معاملہ درج کرنے کی تاریخ سے ایک سال کی مدت کے اندر غلطی کی درستگی کی جانی لازمی ہے۔ پون گپتا ، دلدن نمگیال ، عبدالمجید پڈر نے ضمنی سوالات اٹھائے اور اپنے حلقہ ہائے انتخاب میں سیٹلمنٹ عمل کو فوری طور پورا کرنے پر زور دیا ۔