سرینگر//معصوم طالبہ تابندہ غنی کے اہلخانہ آج 14برس بعد بھی انصاف کے منتظر ہیں ۔ تابندہ غنی کو شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ میں اسی روز 2007میں درندہ صفت 4افراد نے اپنی ہوس کا شکار بناکر ابدی نیند سلادیا ۔ تابندہ غنی کیس کے تمام مجرمین اگرچہ اس وقت بھی جیل میں ہیں تاہم اہلخانہ کا مطالبہ ہے کہ جس طرح سے نربھیا معاملے میں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا اسی طرز پر اس کیس میں بھی کاررائی کی جائے ۔ تابندہ غنی سکول سے اپنے گھر کی طرف آرہی تھی جب درندہ صفت انسانوں نے اس کو درندگی کاشکار بناکر ہلاک کرڈالا جن کی شناخت ثاقب میر، اظہر میر،موچی جہانگیر انصاری،سریش کمار راجستھان کے طور ہوئی ۔ اس ضمن میں پولیس نے معاملہ درج کرکے مجرمین کوعدالت پہنچایا جہاں مجرمین کو سزا تو سنائی گئی لیکن یہ سز ا گناہ سے کہیں کم تھی اور مجرموںنے کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جہاں معاملہ ابھی زیر سماعت ہے ۔ تابندہ غنی کے وارثین کا اب مطالبہ ہے کہ اس کے گناہگاروں کو نربھیا معاملے میں جس طرح سزا ملی تھی اسی طرز پر ان کو بھی سزا ملنی چاہئے ۔