ساریہ سکینہ
صاحب ابھی مصروف ہے…. تم اندر نہیں جا سکتے………
دروازے پر چپراسی نے منہ چڑھا کر کہا اور ہاتھ سے عبدالغنی کو ایک طرف رہنے کے لیئے ہدایت دی۔
کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد عبدالغنی نے چپراسی سے پوچھا،
کتنی دیر لگے گی……؟
عبدالغنی کے لہجے میں اداسی اور مجبوری صاف جھلک رہی تھی۔
پتہ نہیں…….! کچھ کہہ نہیں سکتے چچا……!
دیکھو……! تم اپنے صاحب سے ایک دفعہ کہہ دو کہ عبدالغنی ملنا چاہتا ہے….. میرا تمہارے صاحب سے ملنا بہت ضروری ہے……
چپراسی دروازے کے اندر گیا اور واپس نکلتے ہی اس نے کہا ،
چچا…..! تم اندر جا سکتے ہو…….
عبدالغنی اندر داخل ہوا۔یہ بڑا اور عالیشان آفس تھا اور سامنے کرسی پر ارحان غنی بیٹھا تھا، عبدالغنی کا بیٹا۔ ارحان نے اپنے والد کی اور سرتا پا نظر ڈالی۔ وہ اپنی حیثیت کے مطابق پرانے کپڑے پہنے ہوا تھا۔ ارحان کو شرمندگی محسوس ہورہی تھی کیونکہ اس کا والد غریب شخص تھا۔ اوریہی وجہ تھی کہ ارحان نے عبدالغنی کا تعارف اپنے والد کے حیثیت سے کسی سے نہیں کیا تھا۔
ارحان کھڑا ہو گیا اور عبدالغنی کو صوفے پر بٹھایا اور اس سے کہنے لگا،
مجھے معاف کیجئے گا ابوّ…….! میں کچھ دنوں سے آپ اور زُنیرہ دیدی سے نہیں مل سکا……..
بیٹا کچھ دن نہیں…. ! پورے تین مہینے اور گیارہ دن ہو گئے، تم ہم سے ملنے نہیں آئے………
اچھا اتنا وقت ہو گیا……؟ ابو آپ تو میرے کام کی نوعیت جانتے ہیں….. کبھی اِس شہر تو کبھی اُس شہر….. اسی لیے پتا ہی نہیں چلا کہ اتنا وقت ہو گیا ہے آپ سے ملے ہوئے۔۔۔۔۔ اور سنائیے…. زُنیرہ دیدی کیسی ہے…….؟
زُنیرہ کا رشتہ پکا ہو گیا ہے۔ وہ تمہاری ہی راہ دیکھ رہی ہوتی ہے کہ تم کب آؤ گے۔۔۔۔ بیٹا تم جانتے ہو زُنیرہ تمہاری صرف بڑی بہن ہی نہیں ہے بلکہ تم دونوں کی ماں کے گزر جانے کے بعد اسی نے تمہاری دیکھ بھال ماں کی طرح کی ہے۔ اس نے بہت قربانیاں دی تمہارے لیئے۔۔۔۔ اس نے اپنی پڑھائی چھوڑ دی تاکہ تمہاری پڑھائی نہ چھوٹے۔ تم سے بڑی ہونے کے باوجود تمہاری شادی پہلی کرا دی۔۔۔۔ وہ نہ ہوتی تو تم سول سروس کا امتحان کبھی نہ پاس کر پاتے۔۔۔۔ میں تو اکیلے کچھ نہیں کر پاتا۔ میں تو ریڑھی پر دن بھر چائے بیچتا تھا اور میرا دھیان تو صرف کمانے میں لگا تھا۔ وہ تو زُنیرہ تھی کہ جس نے گھر اور تمہارا خیال رکھا۔۔۔۔۔۔
عبدالغنی نے کمزور اور نرم لہجے میں ارحان سے کہا۔ اس نے ارحان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مزید کہا،
اب تمہاری باری ہے کہ اس کی شادی کرا کر اس کی محبت اور قربانیوں کا جواب اپنی محبت اور ذمہ داری سے ادا کرو۔۔۔۔۔
جی ابو۔۔۔۔۔! آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ لیکن اس وقت میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اس کی شادی کرا دوں۔۔۔۔۔ اگر ہوتے تو میں ضرور کرا دیتا۔ مگر میں خود پریشان ہوں۔۔۔ مجھے خود پیسوں کی ضرورت ہے۔ میرے اُوپر کچھ قرضہ ہے، اس کی قسط بھی ابھی ادا کرنی باقی ہے۔۔۔۔۔
ارحان نے یہ بات اس انداز میں اپنے والد سے کہی جیسے یہ ساری بات سچ تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ ارحان اب ان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا۔
عبدالغنی یہ فقرہ سن کر وہاں سے پریشان حالت میں گھر کی اور روانہ ہو گیا۔ وہ بس سٹاپ پر بس میں سوار ہوا اور کھڑکی کی سیٹ پر بیٹھ کر چلتی ہوئی گاڑی سے ہر ایک چیز کو پیچھے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس کو لگا زندگی بالکل ایسی ہی ہے۔ ہم آگے بڑھتے ہیں اور خود سے جڑی ہوئی ہر چیز کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔
وہ اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے لمحوں کو یاد کرنے لگا۔ اس کو یاد آیا، جب ارحان نے سِول سروس کا امتحان پاس کیا تو وہ کتنے خوش تھے۔ پھر کیسے ارحان کی شادی بڑے گھر میں کرا دی تھی۔ پھر اچانک ارحان نے نیا گھر لینے کا فیصلہ لیا تھا اور جب نئے گھر منتقل ہونے کا وقت آیا تو ارحان نے اپنے والد اور بہن سے کہا تھا کہ ابھی وہ مکان مکمل نہیں ہوا۔ جیسے ہی مکمل ہوگا اور مکان کے دوسرے کمرے تیار ہو جاتے ہیں تو وہ دونوں کو وہاں بلا لے گا۔ اس طرح سے دو سال بھی گزر چکے تھے لیکن ارحان نے انہیں وہاں نہیں بلایا۔ بس مہینے میں دو تین دفعہ ملنے آ جایا کرتا تھا۔ لیکن اب وہ بھی دھیرے دھیرے بند کر دیا تھا۔ عبدالغنی کو ارحان سے اتنی محبت تھی کہ وہ اس پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتا تھا۔
کئی دن گزر جانے کے بعد عبدالغنی اپنے بیٹے سے ملنے نہیں گیا اور نہ ہی ارحان اپنے والد اور اپنی بہن زُنیرہ سے ملنے گیا۔ ارحان تو اپنی ہی دنیا میں مصروف ہو چکا تھا ۔وہ بڑے لوگوں میں رہ کر اپنے غربت میں گزرے ہوئے بچپن کو بھول چکا تھا اور اسے صرف اپنے رئیس رشتہ داروں سے غرض تھا۔ اس کے رئیس سُسر کا گردہ خراب ہو گیا تھا اور اس کی کڑنی ٹرانسپلانٹ میں کئی لاکھ کا خرچہ ہوا تھا۔ ارحان نے وہ سارا خرچہ خود اٹھایا تاکہ سسرال والوں کی نظر میں وہ بہتر انسان ثابت ہو۔ بس اپنے غریب باپ اور بہن کے لئے اس کے پاس کچھ نہ تھا۔
اسپتال کے اندر داخل ہوتے ہی ارحان کی نظر اپنی بیوی پر پڑی.
امرین بابا کیسے ہیں….؟ ارحان نے اپنی بیوی سے پوچھا۔
آج فرق ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ دن بدن بہتر ہوتے جائیں گے۔۔۔۔۔۔
او۔۔۔! دیٹ اِزگریٹ۔۔۔۔! ارحان نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ اس نے مزید کہا،
اور ویسے۔۔۔ میں نے آج پیسے دے دیئے کڈنی ڈونر کو۔۔۔۔۔۔
تمہارے پاس اس کا نمبر ہے۔۔۔۔۔۔؟ امرین نے ارحان سے پوچھا۔
ارے نہیں۔۔۔۔! میں نے ڈاکٹر صاحب کو چیک دیا اور انہوں نے ڈونر کو دیا۔۔۔۔ ویسے ڈاکٹر صاحب نے گردہ عطیہ کرنے والے کی شناخت کی معلومات خفیہ رکھیں۔۔۔۔ کیونکہ یہ ہسپتال کا اصول ہے۔۔۔۔ اور تمہیں کیا کرنا ہے اس کے نمبر کا۔۔۔۔۔۔؟
وہ دراصل ڈاکٹر صاحب نے کہا اس ڈونر کی طبیعت ابھی بھی خراب ہے کیونکہ وہ آرام نہیں کر رہا ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کو ہسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ پر اس نے منع کر دیا۔۔۔۔ اور اس کے علاوہ۔۔۔ میں اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔ اس نے میرے بابا کی جان بچائی ہے۔۔۔۔۔
وہ کیا کرتا ہے اور کیا نہیں کرتا، ہمیں کیا کرنا ہے اس کے ساتھ۔۔۔۔۔؟ اس نے اپنا گردہ پیسوں کے بدلے بیچا اور میں نے اسے پیسے دے دیئے…… اب وہ جانے اسے کیا کرنا ہے۔۔۔ تم صرف اپنا خیال رکھو اور اپنے بابا کا۔۔۔۔
اچھا بتاؤ۔۔۔ ابو سےملے۔۔۔۔۔؟ امرین نے ارحان سے پوچھا۔
نہیں زُنیرہ کی شادی کے دن نزدیک آ رہے ہیں۔۔۔۔ اور میرے پاس ان کو دینے کے لیئے پیسے نہیں ہیں۔۔۔۔ اس لیئے دوری بنائے رکھوں تو بہتر ہوگا۔۔۔۔۔۔
اس کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے والد اور اپنی بہن کی محبت کو بھول چکا تھا۔ وہ اپنی دولت میں چُور ہو چکا تھا۔ اس کو کوئی وعدہ، کوئی قسم، کوئی رسم یاد نہ تھی۔ وہ ان لوگوں کا نام اس قدر بے رخی سے لے رہا تھا، جیسے وہ انجان لوگ ہو۔ جن کو وہ راہ چلتے ہوئے کبھی ملا تھا۔ وہ اب ارحان کے لیئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ان کے لیئے ارحان کے پاس کوئی وقت تھا۔
کئی دن گزر جانے کے بعد عبدالغنی ارحان سے پھر ملنے آنے لگا تھا۔ لیکن کئی دنوں تک اس کی ملاقات ارحان سے نہ ہو سکی اور وہ بنا ملے ہی واپس چلا جاتا۔ کیونکہ چپراسی اکثر اس سے کہتا تھا،
صاحب ابھی مصروف ہے۔۔۔۔ وہ ابھی کسی سے نہیں مل سکتے۔۔۔۔۔
دراصل ارحان نے ہی چپراسی سے یہ کہنے کے لئے کہا تھا۔ وہ اپنی بہن کی شادی میں کوئی حصہ لینا نہیں چاہتا تھااور نہ ہی وہ ان پر اپنے پیسے خرچ کرنا چاہتا تھا۔
ایک روز عبدالغنی ارحان سے جب ملنے پھر سے گیا تو اس روز عبدالغنی کی طبیعت خراب تھی۔ اس کو پسینے چھوٹ رہے تھے اور اچانک سے وہ انتظار کرتے ہوئے وہیں دروازے کے باہر زمین پر گر پڑا۔ چپراسی نے جلدی سے ارحان کو بلا لایا۔ ارحان نے اپنے باپ کو زمین پر پڑا دیکھا تو وہ جلدی سے اس کے پاس چلا گیا۔
عبدالغنی نیم آنکھوں سے ہی ارحان کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے ارحان سے کہا،
تم اتنے دنوں سے مجھ سے کیوں نہیں مل رہے تھے۔۔۔۔؟ میں تمہیں کچھ دینا چاہتا تھا۔۔۔۔ اس سے اپنا قرضہ اتارنا اور زُنیرہ کی اشادی اپنی مقررہ وقت پہ کر دینا۔۔۔۔۔
اس نے اپنے کرتے کے اندر سے ایک لفافہ نکالا اور ارحان کو دیا۔ ارحان کی آنکھوں میں اب آنسوں آگئے تھے۔ وہ انتظار نہ کر سکا اس نے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کی ہدایت دی اور عبدالغنی کو اسی ہسپتال میں لیا جہاں اس کے سسر کا علاج چل رہا تھا۔ ہسپتال میں داخل ہوتے ہی اس نے ڈاکٹروں کو بلایا. ایک ڈاکٹر نے جب عبدالغنی کو دیکھا تو اس نے کہا،
اس کو یورولوجی ڈیپارٹمنٹ میں لے جاؤ۔۔۔۔۔
یہ وہی ڈاکٹر تھا۔ جس نے ارحان کے سسر کا کڈنی ٹرانسپلانٹ کیا تھا.
ڈاکٹر نے دیکھتے ہی کہا، اُہ۔۔۔۔! جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔۔۔۔ انفیکشن پوری جسم میں پھیل گیا ہے۔۔۔۔ اب ان کا بچنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔۔
ارحان نے حیران نگاہوں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا اور کہا،
آپ بنا کسی جانچ کے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس کو کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔؟
ڈاکٹر نے جواب دیا،
میں اس کو جانتا ہوں…….. یہ میرا پیشنٹ ہے…… اور یہی تو وہ ہے جس نے آپ کے فادر اِن لا کو کڈنی ڈونیٹ کی ہے۔۔۔۔۔
یہ سنتے ہی ارحان کے پیر لڑ کھڑانے لگے. اس کا سینہ بھاری ہوگیا اور اس کی کمر جیسے جسم کا بوجھ ہی نہیں اٹھا پا رہی تھی۔ وہ وہیں نیچے زمین پر بیٹھ گیا. اس کی نظر ہاتھ میں رکھے لفافے کی طرف گئی ۔اس نے لفافہ کھولا اس میں چیک تھا۔ یہ وہی پیسوں کا چیک تھا ، جس سے اس نے اپنے سسر کے لیئے گردہ خریدا تھا۔ وہ اپنی نظروں میں اتنا گر چکا تھا کہ وہ خود غرض اور بے مروت نظر آرہا تھا۔
���
حضرتبل، سرینگر