عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی نے تعلیمی سیشن 2026-27 کے لئے اپنا سالانہ داخلہ پراسپیکٹس جاری کر دیا ہے، جس کے تحت نئے کورسز متعارف کرائے گئے ہیں اور تعلیمی نظام کو مزید وسعت دی گئی ہے۔پراسپیکٹس کی باضابطہ رونمائی وائس چانسلر پروفیسر جاوید اقبال نے کی۔ اس موقع پر رجسٹرار ابھیشیک شرما، مختلف اسکولوں کے ڈین، ایسوسی ایٹ ڈینز، شعبہ جات کے سربراہان اور یونیورسٹی کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی اس سال زیادہ سے زیادہ طلباء کو داخلہ دینے کی کوشش کر رہی ہے، جو گزشتہ سال کے بڑھتے ہوئے داخلوں کے رجحان کو مزید آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے کئی نئے کورسز شروع کیے ہیں، جن میں چار سالہ انڈرگریجویٹ ڈگری مکمل کرنے والے طلبہ کے لیے ایک سالہ ماسٹرز پروگرام بھی شامل ہے، جو قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ جیسے جدید شعبوں میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز پہلے ہی شروع کیے جا چکے ہیں، جو طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔رجسٹرار ابھیشیک شرما نے گزشتہ ایک سال کے دوران یونیورسٹی میں ہونے والی ترقیاتی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی میدان میں نمایاں بہتری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید سہولیات سے آراستہ انڈور اسٹیڈیم، نرسنگ طلبہ کے لیے علیحدہ ہاسٹل، یونیورسٹی کا مرکزی دروازہ اور نئے رہائشی کوارٹرز جیسے اہم منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ہاسٹلز کی مرمت اور اپ گریڈیشن کے ذریعے طلبہ کے رہائشی معیار کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے تعلیمی پروگرامز کے آغاز، موجودہ شعبہ جات کو مضبوط بنانے اور جدید شعبوں میں تعلیم کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول اور معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے اور ادارے کو جدید تعلیمی تقاضوں اور پیشہ ورانہ ضروریات سے ہم آہنگ بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔