عارف بلوچ+عازم جان+ مشتاق الحسن
ٹنگمرگ /اننت ناگ/بانڈی پورہ// سرینگر کے ایک 42 سالہ شخص کی اتوار کو پہلگام کے لنگن بل علاقے کے قریب اپنے بیٹے کو بچانے کی کوشش کے دوران دریائے لدر میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔اسی طرح کے ایک واقعہ میں بانڈی پورہ میں باپ کو بچاتے ہوئے بیٹے کی موت ہوگئی جبکہ ٹنگمرگ کے چھانہ پورہ میں تین سالہ مصوم بچہ کوہل میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیا۔حکام کے مطابق محمد اشرف میر ولد غلام محی الدین میر ساکن جواہر نگر سرینگر جو کہ پرائیویٹ سیکٹر میں اے سی مکینک کے طور پر کام کرتا تھا، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تفریحی سفر پر پہلگام آیا تھا۔یہ خاندان کولہائی گرین ہوٹل، لنگن بل کے قریب دریائے لدر کے کنارے تصاویر لے رہا تھا کہ اس کا بیٹا فہد اشرف حادثاتی طور پر تیز بہنے والی ندی میں پھسل گیا۔ اسے بچانے کی مایوس کن کوشش میں محمد اشرف میر نے دریا میں چھلانگ لگا دی لیکن وہ اپنا توزن کھو بیٹھا اور تیز لہروںکی وجہ سے بہہ گیا۔جائے وقوعہ پر موجود مقامی لوگوں نے بچے کو بحفاظت نکال لیا۔ تاہم اشرف دریا میں ڈوب گیا۔واقعے کے فوری بعد مقامی انتظامیہ نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی ٹیموں کو خدمات میں شامل کیا گیا ہے، جب کہ رافٹنگ ٹیمیں بھی لاپتہ شخص کا سراغ لگانے کی کوششوں میں شامل ہوگئی ہیں۔ادھرشمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں اتوار کو ایک ندی میں ڈوبنے سے ایک 18 سالہ لڑکا فوت ہو گیا جبکہ اس کا باپ شدید زخمی ہو گیا۔پولیس نے بتایا کہ مرنے والے کی شناخت عبید شبیر ولد شبیر احمد وانی کے طور پر کی گئی ہے جو کہ بانڈی پورہ کے نادی ہل علاقہ کا رہنے والا ہے۔باپ بیٹا نالہ سریندر میں نہانے گئے تھے کہ اچانک تیز بہائو اور ندی میں پانی کی سطح بڑھنے سے وہ بہہ گئے۔واقعے کے فوراً بعد مقامی لوگوں نے ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس(ایس ڈی آر ایف)کی ٹیموں کے ساتھ مل کر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور دونوں کو پانی سے نکالا۔تاہم، عبید شبیر نے دم توڑ دیا، جب کہ اس کے والد کو علاج کے لیے ضلع ہسپتال بانڈی پورہ منتقل کیا گیا اور بعد میں ان کی تشویشناک حالت کے پیش نظر خصوصی طبی امداد کے لیے سری نگر ریفر کر دیا گیا۔ادھر ٹنگمرگ کے چھانہ پورہ میں اسوقت صف ماتم بچھ گئی جب تین سالہ مصوم بچہ ابوبکر ولد محمد یونس بٹ گھر سے نکلتے ہی وہاں بہنی والی تیلگام کوہل میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیا ۔اگرچہ اسے وہاں موجود لوگوں نے بچانے کی کوشش کی تاہم کوہل میں پانی کا بہاو زیادہ ہونسے بچہ لقمہ اجل بن گیا جوں ہی اسے مردہ حالت میں کوہل سے باہر نکلا گیا تو وہاں صف ماتم بچھ گیا۔