عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//مقامی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور تحقیقی اداروں و زمینی سطح پر کام کرنے والے کسانوں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے کیلئے سکاسٹ نے سرینگر اور اننت ناگ اضلاع میں کسانوں کے ساتھ خصوصی رابطہ اور آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا۔وائس چانسلر سکاسٹ پروفیسر نذیر احمد گنائی کی قیادت میں یونیورسٹی کے ماہرین کی ٹیم نے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور کسانوں کے کھیتوں میں جا کر سبزیوں کی سائنسی کاشتکاری، موجودہ زرعی طریقوں اور پیداوار سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا۔دورے کی اہم کڑی اننت ناگ ضلع کے وانترگ گائوں کا دورہ تھا، جو تربوز اور خربوزے کی بھرپور اور جدید کاشتکاری کے لیے مشہور ہے۔
کھیتوں کا معائنہ کرتے ہوئے پروفیسر نذیر احمد گنی نے مقامی کسانوں کے جدید اور منافع بخش زرعی طریقوں کو سراہا اور وانترگ کو سائنسی بنیادوں پر سبزی پیداوار کا ایک مثالی ماڈل قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وانترگ میں اختیار کیے گئے زیادہ پیداوار دینے والے اور جدید کاشتکاری کے ماڈل کو وادی کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو اور جدید زرعی تکنیکوں کو وسیع پیمانے پر اپنایا جا سکے۔فیلڈ دورے کے دوران یونیورسٹی کے ڈویژن آف ویجیٹیبل سائنس کے ماہرین، جن میں شعبے کے سربراہ ڈاکٹر اشفاق عبیدی، پروفیسر فہیمہ مشتاق، ڈاکٹر عاصمہ امین اور دیگر سائنسدان شامل تھے، نے کسانوں کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ماہرین نے پیداوار اور فصل کے معیار میں بہتری کے لیے جدید تکنیکوں کے استعمال پر زور دیا۔ ان میں ہائی ٹیک پولی ہاس کاشتکاری، مائیکرو اریگیشن کے ذریعے درست آبپاشی و غذائی انتظام، مربوط بیماری و کیڑوں کے تدارک کے طریقے شامل تھے۔