جی آئی ٹیگ مصنوعات عالمی توجہ کا مرکز،نیوزی لینڈ کے وفد نے معیار کو سراہا
سرینگر//جموں و کشمیر کی روایتی دستکاری، ہینڈلوم اور ٹیکسٹائل مصنوعات کو بھارت ٹیکس 2026 نمائش میں عالمی سطح پر بھرپور توجہ حاصل ہوئی۔ نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں 14 سے 17 جولائی تک منعقدہ چار روزہ نمائش میں جموں و کشمیر ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن (JKTPO) نے صنعت و تجارت محکمہ کے اشتراک سے جموں و کشمیر پویلین قائم کیا، جہاں تقریباً 20 نمائش کنندگان نے اپنی مصنوعات پیش کیں۔نمائش میں جی آئی ٹیگ یافتہ پشمینہ شالیں، کانی شالیں، کشمیری قالین، ہاتھ سے تیار کردہ پشمینہ قالین، اونی اسٹول، اسکارف، چین اسٹچ قالین اور دست ساز بیگز نمائش کے لیے رکھے گئے۔ ان مصنوعات نے ملکی و غیر ملکی خریداروں، برآمد کنندگان، ڈیزائنرز اور مختلف سورسنگ ایجنسیوں کی توجہ حاصل کی۔نمائش کی خاص بات نیوزی لینڈ کے وزیر برائے دیہی کمیونٹیز اور ایسوسی ایٹ وزیر برائے زراعت و علاقائی ترقی مارک پیٹرسن کا جموں و کشمیر پویلین کا دورہ تھا۔
ان کے ہمراہ نیوزی لینڈ کے ڈپٹی ہائی کمشنر میتھیو ایئرز اور اون و ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ نمائندے بھی موجود تھے۔وفد نے مختلف اسٹالوں کا معائنہ کیا اور جموں و کشمیر کی پشمینہ، اون، ہینڈلوم اور دستکاری کی قدیم روایت سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر پائیدار ویلیو چین، جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔جے کے ٹی پی او کے مطابق نیوزی لینڈ کے وفد نے جموں و کشمیر کے کاریگروں کی مہارت اور مصنوعات کے اعلیٰ معیار کو سراہا۔ ادارے نے کہا کہ اس نمائش نے مقامی دستکاروں، بْنکروں، کوآپریٹو اداروں اور ایم ایس ایم ایز کو عالمی منڈیوں تک رسائی اور نئے تجارتی روابط قائم کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔بھارت ٹیکس 2026 کو دنیا کی سب سے بڑی مربوط ٹیکسٹائل نمائش قرار دیا گیا، جس میں ایک ہزار 647 نمائش کنندگان اور 138 ممالک سے آنے والے 6 ہزار سے زائد غیر ملکی خریداروں سمیت تقریباً 95 ہزار کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔ نمائش کے دوران 28 ہزار 500 سے زائد کاروباری ملاقاتیں ہوئیں اور اربوں ڈالر مالیت کی تجارتی پوچھ گچھ ریکارڈ کی گئی۔حکام کے مطابق جموں و کشمیر پویلین کو نمائش کے دوران زبردست عوامی اور تجارتی پذیرائی ملی، جس سے مقامی صنعتکاروں اور دستکاروں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی اور کاروبار کے مزید مواقع پیدا ہوئے۔