جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسربھیم سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی کو جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کے تعلق سے خط لکھا جس میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ و ہ ریاست کی سیاسی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ انہوں نے خط میں کہا کہ جموں وکشمیر خاص طورپر وادی کشمیر کے لوگوں کا غصہ ہندستان کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی اس غصہ میں جموں وکشمیر کی اپوزیشن جماعتوں کا کوئی رول ہے بلکہ لوگوں کا یہ غصہ موجودہ حکومت کے خلاف ہے ، ریاست کے لوگوں نے موجودہ حکومت کو بالکل مسترد کردیا ہے اور اب اس حکومت کے خلاف اپنے سیاسی حقوق کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں اور اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ ہند مخالف عناصر ان مظاہرین کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ دیگر ریاستوں کیرالہ سے لیکر مغربی بنگال تک میں اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں جہاں لوگوں نے ریاستی حکومت کی مخالفت کی تھی۔انہوں نے خط میں کہا کہ جموں وکشمیر کے گورنر نے مرکزی حکومت کو جس کی گواہی وزارت داخلہ دے سکتی ہے، جموں وکشمیر میں امن بحال کرنے کے لئے اپنے مشورے دیئے تھے جنہیں ردی کی ٹوکری میں رکھا گیا ہے۔خط میں انہوں نے کہاکہ میں نے آپ سے قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ بلانے کی درخواست بھی کی تھی تاکہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ، سماجی کارکن اور دانشوروں کو بلاکر جموں وکشمیر میں امن بحالی کے لئے ان کی رائے لی جاسکے کیونکہ جموں وکشمیر کا معاملہ صرف سیاسی نہیں ہے بلکہ اس میں کچھ ہند مخالف طاقتوں کے بھی ملوث ہونے کا اندیشہ ہے۔ گزشتہ برس کی صورتحال اور آج جموں وکشمیر کی صورتحال اس لئے مختلف ہے کیونکہ آج جموں وکشمیر کے لوگ انسانی حقوق کی لڑائی لڑرہے ہیں۔آئین میں تمام ہندستانیوں کو دیئے گئے انسانی حقوق ریاست کے لوگوں کو حاصل نہیں ہیں کیونکہ انسانی حقوق کا باب جموں وکشمیر میں 1950سے ہی نافذ نہیں ہے اور یہاں کی ہائی کورٹ بھی سپریم کورٹ کے دائرے میں نہیں آتی بلکہ جموں وکشمیر کے نام نہاد آئین کے ماتحت رکھی گئی ہے۔انہوں نے خط میں کہا کہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جموں وکشمیر کے تمام لوگوں کو انسانی حقوق دینے ہوں گے۔ بچوں پر پیلٹ گن چلانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے ؟ نابالغ بچے جیلوں میں کیوں ہیں ؟ ان سوالات کے جواب اسی وقت مل سکتے ہیں جب جموں وکشمیر میں گورنر راج لگایا جائے اور لوگوں کی جسمانی اور ذہنی صورتحال کو سنا اور سمجھا جائے۔جموں وکشمیر کے لوگوں کی سیکولرحالات میں پرورش ہوئی ہے ، 1947میں جموں وکشمیر مسلم اکثریتی ریاست تھی اس وقت بھی کشمیر کے لوگوں نے شیخ عبداللہ اوران کے ساتھیوں سمیت محمد علی جناح کی ریاست کو مسلم ریاست بنانے کی مخالفت کی تھی۔آج جموں وکشمیر کے لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے اس لئے میں آپ سے قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ بلانے کی درخواست کررہا ہوں جس میں ڈاکٹر کرن سنگھ ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، ڈاکٹر محبوب بیگ، حریت لیڈر علی شاہ گیلانی اور مسٹر میرواعظ مولوی عمر فاروق وغیر ہ کو بھی مہمان خصوصی کے طورپر مدعو کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ آج جموں وکشمیر میں امن بحال کرنے کا واحد راستہ ریاست میں گورنر راج لگانا ہے جس کا مشورہ صدر جموں وکشمیر کے گورنر کو دے سکتے ہیں۔