بھدرواہ//ڈوڈہ ضلع کے دوروافتادہ علاقے میں گزشتہ دوبرس کے دوران پینے کے صاف پانی کی قلت کی وجہ سے متعددلڑکیوں کی اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ دی ہے۔بھدرواہ سب ڈویژن کے مسراتاپنچایت کے چیناراگائوں جوضلع صدرمقام ڈوڈہ سے57کلومیٹر دور ہے،میں غریبی کی سطح سے نیچے گزربسرکرنے والے لوگ رہتے ہیں۔کم بارشوں کی وجہ سے گزشتہ دوبرس کے دوران یہاں کے قدرتی آبی سائل خشک ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں پینے کا پانی کابحران پیداہواہے۔ لڑکیوں کا کہناہے کہ پینے کاپانی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اسکول چھوڑناپڑاجبکہ حکام کاکہنا ہے کہ گائوں کوجل جیون مشن کے ساتھ عنقریب جوڑ دیاجائے گا۔تاہم اس پروجیکٹ کو عملانے میں کچھ وقت لگے گااورگائوں والوں کو پینے کاصاف پانی مہیا ہوگا۔گائوں کے لوگوں کے مطابق خواتین خاص طور سے لڑکیوں کو گھنے جنگل سے گزر کر ہرروزمیلوں دور پانی لانے جانا پڑتا ہے تاکہ خود اور مویشیوں کیلئے پانی کا بندوبست کرسکے۔انہوں نے کہا کہ متعدد مرتبہ وہ گدلاپانی لے کر آتی ہیں جو پینے کے لائق نہیں ہوتااورانہیں اُسے پینے کے لائق بنانے کیلئے کافی محنت کرناپڑتی ہیں ۔18برس کی رابعہ بانو نے کہا کہ مجھے پڑھنے کا کافی شوق ہے اور میں نے بڑی مشکل سے 12ویں جماعت تک پڑھائی حاصل کی ۔تاہم مجھے گزشتہ سال پڑھائی چھوڑنی پڑی کیوں کہ مجھے گھر کیلئے پانی لانے ہرروزدورجاناپڑتا ہے اور مجھے پڑھائی کو موقعہ ہی نہیں ملتا۔بانو نے کہا کہ لڑکیوں کے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہں ہے کہ وہ تعلیم ادھوری چھوڑیں اور گھر کیلئے پانی لانے جائیں۔16برس کی فاطمہ نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ وقت کی کمی کے سبب وہ پڑھ نہیں پاتے۔اُس نے دوبارآٹھویں کا امتحان دیا لیکن پاس نہ ہوئی۔فاطمہ نے اپنی ناقص تعلیمی کارکردگی کیلئے وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے روزگھنٹوں پانی لانے کیلئے دوردرازجانا پڑتا ہے اور میں ُپڑھ نہیں پاتی ہوں۔اس نے کہا کہ اُسے دن میں کئی کئی بار قدرتی چشموں پرپانی لانے جانا پڑتا ہے۔ایک مقامی شہری عبدالرشیدگوجر نے کہا جب نل سے گھروں کو پانی مہیا نہیں کیاجاتا،تو پانی لانے کاکام خواتین خاص طور سے بچوں پرپڑتا ہے۔اس نے کہا کہ ان حالات نے لڑکیوں کی تعلیم پربرے اثرات ڈالے ہیں اوراب تک15طالبات کے تعلیم ادھوری چھوڑدی ہے ۔گجر کی دخترنازیہ نے پانچویں جماعت میں ہی تعلیم چھوڑ دی۔اُس نے بتایا کہ لڑکیوں کوروزانہ 10گھنٹے پانی لانے پرصرف کرنے پڑتے ہیں۔جس سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہیْ۔اس نے کہا کہ ہمارے گائوں میں لوگوں کو اس بات کا غم ہوتا ہے کہ کیسے پانی حاصل کرے یااگر کسی کی شادی ہو یاکوئی مرجائے تب بھی ہمیں پانی کی کمی کامسئلہ ہوتا ہے۔ اس دوران پنتھرس پارٹی کے ضلع یوتھ صدر رشیدچودھری نے دعویٰ کیا کہ وہ گائوں کے کئی وفود کے ہمراہ مختلف سرکاری محکموں میں گیالیکن جل شکتی محکمہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے سردمہری کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں حیرت ہوئی جب جل شکتی محکمہ کے متعلقہ اسسٹنٹ ایگزیکٹوانجینئر ہماری بات سننے کے بجائے طیش میں آئے اورکہا کہ میرے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں ہے جو میں آپ کو پانی مہیاکروں۔مسراتاپنچایت کے سرپنچ ستیش کوتوال نے کہاگائوں میں پانی کی شدید قلت ہے اور حکومت کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔ایگزیکٹوانجینئرجل شکتی ڈوڈہ ہرجیت سنگھ کے مطابق فیلڈ اسٹاف کے مطابق گائوں میں نلکے سے پانی مہیا نہیں ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ کیلئے وہ ٹیم کووہاں بھیجے گے تاکہ گائوں کو پینے کاصاف پانی مہیا کیاجاسکے۔