سرینگر//محفوظ رہائشی سہولیات کی فراہمی کے مطالبے کولیکر منگل کے روز بھاجپا سے وابستہ پنچایتی وبلدیاتی نمائندوںنے پریس کالونی سے سیول سکریٹریٹ کی طرف مارچ کیا۔بھاجپا ترجمان الطاف ٹھاکرنے الزام لگایاکہ منتخب نمائندوں کو انتظامیہ نے مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔وادی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے بی جے پی سے وابستہ پنچ، سرپنچ اور میونسپل کونسلر منگل کے روز پارٹی لیڈروں کے ہمراہ پریس کالونی میں جمع ہو ئے اور انہوںنے احتجاج کیا۔احتجاج میں شامل پنچوں، سرپنچوں اور میونسپل کارپوریٹروں کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جاری نامساعد حالات کے بیچ انہیں محفوظ قیام گاہوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔احتجاجی پنچایتی وبلدیاتی نمائندوںنے بعد میں مقامی انتظامیہ اور بیوروکریسی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے سیول سکریٹریٹ کی طرف مارچ کیا۔دوران احتجاج ترجمان الطاف ٹھا کر نے میڈیا کوبتایاکہ انتظامیہ نے منتخب نمائندوں کو قیام گاہوں سے محروم کرکے سر راہ مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سے وابستہ منتخب پنچایتی وبلدیاتی نمائندے سرینگر میں 14 ہوٹلوں میں قیام پذیر تھے لیکن انہیں اپنے اپنے اضلاع میں جانے کو کہا گیا ہے۔ الطاف ٹھا کر نے کہا کہ جب ہم متعلقہ ضلع مجسٹریٹوں سے بات کرتے ہیں تو وہاں ان کے قیام کیلئے کوئی انتظام ہی نہیں ہے۔انہوںنے مزیدکہا کہ ہمارا لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ وہ یا تو منتخب پنچایتی وبلدیاتی نمائندوں کو واپس ان ہوٹلوں میں رہنے دیں یا ان کیلئے محفوظ قیام گاہوں کا بندوبست کرے۔ ٹھا کر نے کہا کہ ہم ہر ضلع میں احتجاج درج کریں گے اور تب تک بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے جب تک ہمارے مطالبے کو پورا نہیں کیا جائے گا۔احتجاج میں شامل ایک نمائندے کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کی حکومت ہے اگر بی جے پی کی سرکار ہوتی تو ان لوگوں کو اس دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
سیاسی افراد کی سیکورٹی و رہائش کا معاملہ
تمام جماعتوں کیساتھ دوبدو تبادلہ خیال کیا جائے
ضلع کمشنروں اور ایس ایس پیز کو صوبائی کمشنر کی ہدایت
نیوز ڈیسک
سرینگر // ڈویژنل کمشنر کشمیر نے تمام ڈپٹی کمشنروں اور ایس ایس پیز کو ہدایات دیں کہ وہ رہائش وغیرہ کے حوالے سے خدشات کے ازالے کے لیے دو تین دنوں کے اندر تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں/رہنمائوں کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات کو یقینی بنائیں اور ان کے حقیقی مطالبات پر غور کریں۔ڈویژنل کمشنر نے یہ بھی ہدایت کی کہ کسی بھی جموں نشین ملازم کو ضلع /وادی چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے اور جو بھی غیر حاضر رہے گا ، سروس رولز کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔صوبائی کمشنر پی کے پولے، نے ایک میٹنگ میںمحفوظ افراد کے لیے اور سیکورٹی انتظامات کا جائزہ۔میٹنگ میں ڈپٹی کمشنر اننت ناگ ، بانڈی پورہ ، بارہمولہ ، بڈگام ، گاندربل ، کولگام ، کپواڑہ ،پلوامہ ، شوپیاں ، سرینگر کے ساتھ وادی کشمیر کے تمام پولیس اضلاع کے ایس ایس پیز/نمائندوں نے شرکت کی۔ڈویژنل کمشنر کو تمام ڈپٹی کمشنروں/ایس ایس پیز یا ان کے نمائندوں نے آگاہ کیا کہ سخت چوکسی کو یقینی بنایا گیا ہے اور مہاجر ملازمین ، سکھوں ، کشمیری پنڈتوں اور مزدوروں کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کئے گئے ہیں ، اس کے علاوہ ، متعلقہ ڈپٹی کمشنروں /ایس ایس پیز نے مہاجر کالونیوں /رہائش گاہوں ، شیخ پورہ بڈگام ، نتنوسہ کپواڑہ ، تولہ مولہ گاندربل ، ہال پلوامہ ، مٹن اور ویسواننت ناگ وغیرہ میں مسلسل دورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی کمشنر کوسکیورٹی /اعتماد سازی کے اقدامات ، سہولیات اور دیگر انتظامات کے بارے میں حکومت کی طرف سے ان کی حفاظت کے بارے میں آگاہ کیا ۔ مزید برآں ، متعلقہ تحصیلدار ، ایس ایچ اوز اور سیکورٹی فورسز بھی ان علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں جہاں غیر مہاجر پنڈت اور سکھ رہتے ہیں ، اس کے علاوہ سیکورٹی فورسز اور پولیس اقلیتوں اور بیرونی مزدوروں کی حفاظت کے لیے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ڈویژنل کمشنر نے ہدایت دی کہ ضلع میں غیر مہاجر اقلیتی آبادی ، مزدور اور ہنر مند مزدور وغیرہ کی نشاندہی کی جائے اور ان کے لیے سیکورٹی کے مناسب اقدامات کیے جائیں۔اس کے علاوہ ، انہوں نے کہا ، ان کے ساتھ باقاعدہ بات چیت کی جائے تاکہ ان کی حفاظت کے حوالے سے کسی بھی خدشے کا خیال رکھا جائے۔ ڈویژنل کمشنر کشمیر نے افسران پر زور دیا کہ وہ ان مہاجر ملازمین کو ترجیحی طور پر دور دراز اور کمزور علاقوں کی بجائے محفوظ زون میں تعینات کریں۔