یواین آئی
میکسیکو/گول کیپر یاسین بونو کی شاندار کارکردگی اور اسماعیل صیباری کی فیصلہ کن پینلٹی کی بدولت مراکش نے فیفا ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 32کے مقابلے میں نیدرلینڈز کو پینلٹی شوٹ آؤٹ میں 2-3 سے شکست دے کر راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنا لی۔ مقررہ اور اضافی وقت کے اختتام پر دونوں ٹیمیں 1-1 سے برابر تھیں۔ایستادیو بی بی وی اے میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز مقابلے کے بعد مراکش اب راؤنڈ آف 16 میں کینیڈا کا سامنا کرے گا۔ دباؤ کے لمحات میں غیر معمولی حوصلے اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے مراکش نے ایک اور یادگار فتح اپنے نام کی۔میچ کے 72ویں منٹ میں نیدرلینڈز کے کوڈی گاکپو نے گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ انہوں نے مراکش کے مضبوط دفاع کو چیرتے ہوئے یاسین بونو کو شکست دی اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ نیدرلینڈز ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ جائے گا۔
تاہم انجری ٹائم کے پہلے منٹ میں شمس الدین طالبی کے عمدہ کراس پر عیسیٰ دیوپ نے ہیڈر کے ذریعے گول کر کے اسکور 1-1 سے برابر کر دیا اور میچ کو اضافی وقت میں پہنچا دیا۔اضافی 30 منٹ میں بھی مراکش نے خطرناک حملے جاری رکھے ۔ سوفیان رحیمی کے پاس فاتحانہ گول کرنے کا بہترین موقع تھا، لیکن ڈچ گول کیپر بارٹ فربرگن نے شاندار بچاؤ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو بچا لیا۔فیصلہ کن برتری نہ ملنے پر میچ کا فیصلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ سے ہوا۔نیدرلینڈز کے تیون کوپمینرز نے پہلی پینلٹی پر گول کیا، جبکہ مراکش کے نیل العیناوی کی شاٹ کراس بار سے ٹکرا گئی۔ تاہم جسٹن کلائیورٹ کی پینلٹی پوسٹ سے ٹکرا کر باہر چلی گئی، جس کے بعد سوفیان رحیمی نے گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔اس کے بعد واؤٹ ویگھورسٹ اور شمس الدین طالبی نے اپنی اپنی پینلٹیز کامیابی سے تبدیل کیں، لیکن کوئنٹن ٹمبر کی کوشش ہدف سے باہر چلی گئی۔ مراکش کے کپتان اشرف حکیمی کے پاس ٹیم کو برتری دلانے کا موقع تھا، مگر ان کی پینلٹی بھی پوسٹ سے ٹکرا گئی۔شوٹ آؤٹ کا فیصلہ کن لمحہ اس وقت آیا جب یاسین بونو نے کرسینسیو سمرول کی پینلٹی کو بائیں ہاتھ سے شاندار انداز میں روک لیا۔ اس کے بعد اسماعیل صیباری نے انتہائی اعتماد کے ساتھ گیند کو گول کے نچلے کونے میں پہنچا کر مراکش کو فتح دلائی، جس کے ساتھ ہی کھلاڑیوں اور شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔مقررہ وقت کے آخری لمحات تک خسارے میں رہنے کے باوجود مراکش نے زبردست واپسی کرتے ہوئے اپنے عزم اور حوصلے کا ثبوت دیا، جبکہ نیدرلینڈز کو ضائع کیے گئے مواقع اور دل توڑ دینے والی شکست کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہونا پڑا۔