والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تمام ضرورتیں اور خواہشات پوری کریں، جس کے لیے وہ اپنی تمام کوششیں اور انتھک محنت کرتے ہیں۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے زندگی کی دوڑ میں سبقت لے کر معاشرے کا کارآمد فرد بن جائیں، اسی لیے وہ انھیں بہتر سے بہتر تعلیم بھی دلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود جب بچوں کی کارکردگی پر بیشتر والدین پریشان، مایوس اور غصے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کی سمجھ نہیں آتا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے جس سے بچے کی کارکردگی میں بہتری آسکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں والدین کو چاہیے کہ بچوں سے بات کریں اور ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ بہتری کے بجائے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ والدین کی جانب سے سپورٹ نہ ملنے پر اگر ان میں اعتماد کی کمی ہوجائے تو ان کے اندر بہتر کارکردگی دکھانے کا خوف پیدا ہوجاتا ہے اور یہ چیز ان کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
والدین بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ان سے اچھے نتائج کی توقع کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر کوئی اوّل پوزیشن حاصل کرپاتا ہے، ہاں بہتر کارکردگی کی توقع ضرور کی جاسکتی ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچوں پر والدین کے بے جا دبائواور حد سے زیادہ توقعات انھیں ذہنی پریشانی کا شکار کرکے ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر کردیتی ہے۔
کسی بھی شخص کی زندگی میں تعلیم صرف پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی بلکہ بہتر طرزِ زندگی گزارنے کا بھی ہنر سکھاتی ہے۔ بچے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف مہارتیں بھی سیکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی توجہ بٹ جاتی ہے اور کہیں نہ کہیں دیگر چیزوں پر سمجھوتہ ہو جاتاہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بچے زندگی گزارنے کے طور طریقے سیکھ ہی جاتے ہیں مگر درحقیقت زندگی کی مہارتیںہی انھیں خود انحصاری اپنانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر بچہ دوسرے سے مختلف اور اپنی فطرت پر پیدا ہوتاہے۔ وہ اپنے والدین سے مختلف ہوسکتا ہے، اس کی وجہ شاید بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے، جس کی وجہ سے بچہ اپنے والدین کے زمانے سے آگے ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر والدین بچوں کی تربیت اور پرورش ویسی ہی کرنی چاہیں جیسے ان کی گئی یا جیسے انھیں بچپن میں پڑھایا گیا تو مسئلہ گمبھیر ہوسکتا ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کا دوسرے بچوں سے موازنہ کرنے یا بچوں کو کسی دوسرے کی طرح بننے کا کہنے سے گریز کرنا چاہئے بلکہ ان کی شخصیت نکھارنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بچے وہی کرتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتا دیکھتے ہیں۔ لہٰذا، بچوں کو اگر کچھ سکھانا ہے تو والدین کو چاہیے کہ وہ پہلے خود عمل کریں، بچے خود ہی ان کو دیکھ کر وہ عمل اپنا لیں گے یا کوئی کام سیکھ جائیں گے۔ اس سلسلے میں والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے اساتذہ اور دوستوں سے پُرمغز بات چیت کریں کیونکہ یہ عمل ان کے امتحانات میں نمبر حاصل کرنے سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ بچوں کی سنیں، ان کے خیالات جانیں کیونکہ اس سےانھیں اعتماد اور حوصلہ ملتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار والدین سے بآسانی کرسکتے ہیں۔
ایسا کرنے کا فائدہ یہ بھی ہے کہ بچے نت نئے آئیڈیاز پر سوچتے اور ان پر بات کرتے ہیں، ساتھ ہی انھیں زمانے کی اونچ نیچ سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں ہر چیز میں مقابلے کی فضا قائم ہے، جو ایک حد تک تو مثبت ہوتی ہے مگر اکثر اوقات اس کے منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔ مثبت باتوں یا کاموں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنا معاشرے کے لیے بہتر ہوتا ہے لیکن غیرضروری سرگرمیوں یا رجحانات میں مقابلہ بازی منفی کردار ادا کرتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو مثبت سرگرمیوں میں مقابلہ کرنے کی ترغیب دیں اور غیرضروری معاملات میں مقابلہ کرنے کے رجحان کی نفی کریں۔
ہمارے مذہب اور معاشرے میں بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت سے پیش آنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ چیز بچپن سے ہی بچوں کو زبانی بتائی جاتی ہے لیکن اگر والدین خود اس پر عمل نہیں کرتے تو بچے اس کا منفی اثر لیں گے۔ لہٰذا اپنی حرکات و سکنات سے دوسروں کی عزت و احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں تاکہ بچے بھی ویسا ہی کریں۔ بچے ہروقت صرف کتابیں نہیں پڑھ سکتے۔ انھیں اردگرد ماحول اور مشاغل سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما ہوتی ہے اور صحت پر بھی اچھے اثرات پڑتے ہیں۔ بچوں کو کچھ نیا سیکھنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔بچوں کو بات بات پر یا معمولی غلطیوں پر ڈانٹنا درست نہیں۔ بچے غلطی کرتے ہیں، اس پر انھیں سمجھائیں اور اگلی دفعہ بہتری لانے کا طریقہ بتائیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ غلطیوں سے انسان کافی کچھ سیکھتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کے سامنے مختلف حالات رکھیں تاکہ وہ مشاہدہ کرسکیں۔ ا س طرح بچوں کو صحیح اور غلط کے درمیان فرق سمجھنے کا موقع ملے گا اور ان میں عزتِ نفس اور اعتما د پیدا ہوگا۔
ظاہر ہے کہ گذشتہ دو تین برسوں سےکووڈ-19نے ہمارے معاملات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس کے باعث ہماری زندگیوں میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ بڑوں کی طرح اس وبا کا کافی زیادہ اثر بچوں پر بھی پڑا ہے۔ اسکولوں، مالز، پارکس اور دیگر تفریحی مقامات کی بندش کے باعث بچے گھر کے ہوکر رہ گئے تھے، جس میں ان کا زیادہ تر وقت موبائل، ٹی وی اور دیگر گیجٹس کے استعمال میں گرزتا تھا۔تاہم، وائرس کے پھیلاؤ میں کمی اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ویکسین لگنے سے صورتحال میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ بچوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور جسمانی و ذہنی طور پر تندرست و توانا رکھنے کے لیے انھیں مختلف کارآمد سرگرمیوں اور مشاغل میں مصروف کیا جائے۔ ان کے لیے ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جس میں ہر بچے کی عمر کا خیال رکھتے ہوئے ان کے لیے سرگرمیاں ترتیب دی جائیں۔ انہیں دلچسپی کے مشاغل، کھیل اور سیروتفریح کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ غیر نصابی سرگرمیاں اور تفریح کے مواقع بچوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
ان سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے۔ کوشش کیجیےکہ آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز کے ساتھ ساتھ بچوں کے معمولات اور خوراک میں بھی ایک توازن قائم ہو کیونکہ اس طرح ہی بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشو ونما میں بہتری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
کیریئر میں کامیابی کے لیے بچوں میں کتب بینی کارجحان ہونا بے حد ضروری ہے۔ کتب بینی ایسا شوق نہیں جو راتوں رات بچوں میں پیدا ہوجائے بلکہ اس شوق کی آبیاری کے لیے والدین کو ان کے بچپن سے ہی ہوم ورک کرنا ہوگا۔مثلاً آپ کو خود بھی باقاعدگی سے مطالعہ کرنا ہوگا کیونکہ والدین اولاد کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
آپ کو چاہیے کہ بچوں کے ہمراہ مقامی لائبریریوں کا دورہ کریں، تاکہ بچے مختلف کتابوں کو دیکھیں اور ان کا مطالعہ کریں گے۔ ساتھ ہی دوسرے لوگوں کو مطالعہ کرتے دیکھ کر ان میں بھی کتابوں سے دوستی کا شوق پیدا ہوگا۔ اس کے علاوہ آپ بچوں کو کتابوں اور میگزین کے تحائف دے کر ان کا کتاب سے رشتہ قائم یا برقرار رکھ سکتے ہیں۔
باغبانی انسانی مزاج و دماغ پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جو بچے باغبانی کا مشغلہ اپناتے ہیں ان کی دماغی و جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی بآسانی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق جو بچے بچپن ہی سے باغبانی کا شوق رکھتے ہیں ان میں دوسرے بچوں کی نسبت احساس ذمہ داری، ماحول دوست عادات اور خود اعتمادی کا جذبہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ آپ بچوں میں باغبانی کا شوق پیدا کرنے کے لیے گارڈن میں ایک چھوٹا سا حصہ بچوں کے لیے مختص کردیں۔وہاں بچوں کے پسندیدہ پھول اور پودے ان کے ساتھ مل کر لگائیں، ساتھ ہی انھیں یہ بتائیں کہ ان پودوں کو کب کب اور کتنا پانی دینا ہے۔ اس طرح بچوں میں احساس ذمہ داری کا جذبہ بھی پیدا ہوگا اور ماحول دوست عادتیں بھی پروان چڑھیں گی۔مارشل آرٹ ناصرف ایک کھیل ہے بلکہ یہ جسمانی و ذہنی طور پر تندرست اور توانا رہنے کا بھی ذریعہ ہے۔ یہ بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ آپ بچوں کی توجہ مارشل آرٹ کی جانب مبذول کرسکتے ہیں۔ بہت سی اکیڈمیز اور مارشل آرٹ کلب بچوں کے لیے مارشل آرٹ کے مختلف کورسز ترتیب دیتے ہیں جہاں انھیں جمناسٹک، داؤ شو اور کنگ فو کی تیکنیکس سکھائی جاتی ہیں۔آپ بچوں کو یہ کلاسز جوائن کرنے کے لیے تیار کرسکتے ہیں۔