ایجنسیز
کرشن نگر// وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو مغربی بنگال کے عوام کو جاری اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ اب تک کے اعداد و شمار ’’تبدیلی کے لیے زبردست مینڈیٹ‘‘کی نشاندہی کر رہے ہیں۔نادیہ ضلع کے کرشن نگر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران تشدد گزشتہ 50 برسوں میں کم ترین سطح پر رہا ہے۔انہوں نے کہا،’’بنگال کی پچاس سالہ انتخابی تاریخ میں اس بار تشدد کم ترین رہا ہے۔ اب تک موصول ہونے والی معلومات سے مجھے یقین ہے کہ یہ تبدیلی کے حق میں مینڈیٹ ہوگا۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب بھی عوام بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے ہیں، بی جے پی نے فیصلہ کن کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
بنگال میں دوپہر ایک بجے تک اوسط ووٹر ٹرن آؤٹ 62.18 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ریاست کی 152 اسمبلی نشستوں پر پولنگ کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران بعض علاقوں سے وقفے وقفے سے تشدد کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔حکمران جماعت پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے ‘جھالمڑی’ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں انہوں نے اس اسنیک کا لطف اٹھایا، وہیں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) ’’مرچوں کی تپش محسوس کر رہی ہے۔‘‘انہوں نے کہا،’’میں نے بنگال میں جھالمڑی کھائی، لیکن لگتا ہے کہ ٹی ایم سی کے رہنما مرچوں کی تپش محسوس کر رہے ہیں۔‘‘ریاست کے لیے اپنے پہلے اعلان کردہ ’’چھ انتخابی ضمانتوں‘‘ کے علاوہ، وزیرِ اعظم نے خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے ’’مودی کی 10 نئی ضمانتوں‘‘ کا وعدہ بھی کیا۔انہوں نے کہا، ’’مودی کی گارنٹی کا مطلب ان وعدوں کی تکمیل ہے۔‘‘مودی نے دعویٰ کیا، ’’اس بار ٹی ایم سی بنگال کے کئی اضلاع میں اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائے گی۔ دراندازوں کی حمایت کی ٹی ایم سی کی پالیسی کو ختم کرنا ضروری ہے جو ہماری سرزمین کے لیے خطرہ ہے۔‘‘انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سی اے اے کے تحت شہریت دینے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔