منڈی//تحصیل منڈی کے بلاک ساتھرہ کے 6علاقوں کی عوام اس ترقی یافتہ دور میں بھی بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ اس بلاک کے چھ علاقے ایسے ہیں جن میں کنال،کینوں،فتح پورہ ،دڑہ،اور ہاڑی بڈھا پڑتے ہیں جن میں بسے چھ ہزار سے زاید لوگوں کو جہاں دوسری بنیادی سہولیات کا عدم دستیابی کاسامنا کرنا پڑتا ہے وہیں ان علاقہ کے لوگوں کو ساتھرہ پہنچنے کے لیے پل نہ ہونے کے باعث دریا پار کرنا پڑتا ہے جو یہاں کے لوگوں کے لیے کسی بڑی مصیبت سے کم نہیں ہے۔ مکینوں کے مطابق انہیں ہر روز اس دریا کو پار کر کے کسی بھی کام کے لیے ساتھرہ پہنچنا پڑتا ہے جو کہ ان کے لیے روزانہ کا معمول ہے ان کا کہنا تھا انہیں دریا پار کرتے ہویے اس بات کا بالکل بھی یقین نہیں ہوتا ہے کہ وہ صحیح سلامت ساتھرہ پہنچ پائیں گے۔کنال علاقہ سے تعلق رکھنے والے حاجی محمد یوسف نامی ایک شخص نے بتایا کہ دریا پر پل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موسم صاف ہو تو ان علاقہ جات کی عوام اسی دریا کو پار کر کے ساتھرہ پہنچ جاتے ہیں اور اگر کبھی بارش کا موسم ہو تو انہیں پہلے منڈی پہنچنا پڑتا ہے بعد ازں ساتھرہ۔ان کا کہنا تھا کہ سکولی بچوں سمیت بیماروں کو ساتھرہ جانے کے لیے یہی دریا عبور کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے یہاں کی عوام نے متعدد دفعہ انتظامیہ کے نوٹس میں بھی لایا جبکہ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے بھی علاقہ کے لوگ وفود کی صورت میں ملے مگر آج تک اس دریا پر پل نہیں لگایا گیا۔ ان علاقہ جات کی عوام نے یوٹی کے لیفٹنٹ گورنر سے اپیل کی ہے کہ اس دریا پر ایک پل تعمیر کیا جائے تاکہ ان کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔