پیر اقبال رشید
اردو ادب کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو صرف شاعر نہیں رہتے بلکہ ایک عہد، ایک احساس اور ایک تہذیب کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ بشیر بدر انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کا انتقال صرف ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ اردو غزل کے ایک روشن باب کا اختتام ہے۔ وہ شاعر جس نے محبت کو نئی زبان دی، دکھ کو خوبصورتی عطا کی اور انسانی رشتوں کی نزاکت کو ایسے سادہ مگر دل نشین الفاظ میں بیان کیا کہ ہر شخص کو اپنے جذبات کی ترجمانی محسوس ہوئی۔
بشیر بدرؔ کی شاعری میں زندگی سانس لیتی تھی۔ ان کے اشعار میں محبت بھی تھی، جدائی بھی، امید بھی، درد بھی، تنہائی بھی اور انسان دوستی کا پیغام بھی۔ وہ ایسے شاعر تھے جنہوں نے غزل کو محض محبوب و ساقی کے دائرے سے نکال کر عام انسان کی زندگی سے جوڑ دیا۔ ان کے اشعار کتابوں کی زینت ہی نہیں بلکہ لوگوں کی روزمرہ گفتگو، خطوں، تقریروں اور دلوں کی دھڑکن بن گئے۔بشیر بدرؔ کا سب سے بڑا وصف ان کی سادگی تھی۔ وہ پیچیدہ الفاظ اور مشکل تراکیب کے قائل نہیں تھے۔ ان کی شاعری سیدھی دل میں اترتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل بھی ان سے بے حد محبت کرتی ہے۔ ان کے اشعار پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اپنا شخص دل کی بات کر رہا ہو۔
ان کا یہ شعر زندگی کی ناپائیداری اور یادوں کی اہمیت کو کس خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ زندگی کا فلسفہ ہے۔ انسان جب اپنے پیاروں کی یادوں کے ساتھ جیتا ہے تو وہ یادیں اس کے اندھیروں میں روشنی بن جاتی ہیں۔ بشیر بدرؔ نے ہمیشہ انسان کے باطن کو مخاطب کیا۔ انہوں نے دل کی چھوٹی چھوٹی کیفیتوں کو الفاظ کا لباس پہنایا۔ان کے ہاں محبت صرف رومانوی جذبہ نہیں بلکہ انسانیت کا ایک وسیع تصور ہے۔ وہ نفرتوں کے دور میں محبت، برداشت اور احترامِ انسانیت کا درس دیتے ہیں۔ ان کا مشہور شعر:
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
یہ شعر آج کے معاشرے کے لیے ایک مکمل پیغام ہے۔ اختلاف ہو سکتا ہے مگر نفرت اتنی نہ بڑھے کہ واپسی کا راستہ بند ہو جائے۔ یہی بشیر بدرؔ کی عظمت تھی کہ وہ زندگی کے بڑے فلسفے دو مصرعوں میں بیان کر دیتے تھے۔بشیر بدرؔ نے انسانی رشتوں کی نزاکت کو بھی بڑی خوبصورتی سے پیش کیا۔ آج کے دور کی مصنوعی محبتوں اور بدلتے رویوں پر ان کا یہ شعر گہرا طنز ہے۔
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
یہ شعر جدید معاشرتی رویوں کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ آج انسان ایک دوسرے سے قریب ہو کر بھی دور ہیں۔ تعلقات میں خلوص کم ہوتا جا رہا ہے۔ بشیر بدرؔ نے ان تبدیلیوں کو نہایت باریک بینی سے محسوس کیا اور انہیں شاعری میں ڈھال دیا۔ان کے اشعار میں صرف محبت نہیں بلکہ سماجی درد بھی ملتا ہے۔ان کی شاعری کی ایک اور بڑی خوبی امید ہے۔ وہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی روشنی کی کرن تلاش کرتے ہیں۔ ان کا یہ شعر نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
یہ شعر وقت کی قدر اور زندگی کے حسین لمحوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ بشیر بدرؔ زندگی کو جینے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ وہ غم کو بھی خوبصورتی سے قبول کرنے کا درس دیتے ہیں۔
بشیر بدرؔ کی غزلوں میں تہذیب کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ ان کے ہاں زبان کا حسن، بیان کی نرمی اور جذبات کی سچائی نمایاں ہے۔ انہوں نے کبھی چیخ کر بات نہیں کی بلکہ آہستگی سے دلوں پر اثر چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ہر عمر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
بشیر بدرؔ نے اپنی زندگی میں بہت دکھ دیکھے۔ ذاتی سانحات، ہجرت، بیماری اور تنہائی نے انہیں اندر سے زخمی کیا، مگر انہوں نے اپنے دکھ کو لفظوں کی خوشبو بنا دیا۔ ان کے اشعار میں درد کی وہ چمک ہے جو دل کو چھو لیتی ہے۔
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگِ دل تھا اور بہت بے لحاظ تھا
یہ شعر ان کے باطن کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنے دکھ کو شور نہیں بناتے بلکہ خاموشی سے سہتے ہیں۔ یہی خاموش درد ان کی شاعری کو امر بناتا ہے۔
اردو ادب میں بشیر بدرؔ کا مقام بہت بلند ہے۔ انہوں نے غزل کو نئی زندگی دی۔ ان کے بعد آنے والے بے شمار شعراء نے ان کے انداز سے اثر قبول کیا۔ ان کے اشعار صرف ہندوستان یا پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں اردو جاننے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔آج جب وہ ہم میں نہیں رہے تو یقیناً اردو ادب کی دنیا ایک عظیم شاعر اور مفکر سے محروم ہو گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بڑے فنکار کبھی مرتے نہیں۔ وہ اپنی تخلیقات میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ بشیر بدرؔ بھی اپنے اشعار، اپنی غزلوں اور اپنی محبت بھری زبان کے ذریعے ہمیشہ ہمارے درمیان موجود رہیں گے۔ان کے لفظ آئندہ نسلوں کو محبت، رواداری اور انسانیت کا درس دیتے رہیں گے۔ جب بھی اردو غزل کا ذکر ہوگا، بشیر بدرؔ کا نام عزت و احترام سے لیا جائے گا۔ ان کی شاعری آنے والے وقتوں میں بھی دلوں کو روشن کرتی رہے گی۔آخر میں ان ہی کا ایک خوبصورت شعر ؎
چراغوں کو آنکھوں میں محفوظ رکھنا
بڑی دور تک رات ہی رات ہوگی
اللہ تعالیٰ مرحوم بشیر بدرؔ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اردو ادب کو ان جیسا حساس، محبت کرنے والا اور انسان دوست شاعر دوبارہ نصیب کرے۔ آمین