بانہال // کشمیر ریل پروجیکٹ کو تعمیر کرنے والی اِرکان انٹرنیشنل کی طرف سے رام بن کے سمبڑھ علاقے میں زیر تعمیر ریلوے ٹنلوں کی رسائی کیلئے تعمیر کی گئی سڑک پر مقامی لوگوں کی طرف سے ادہمپور اور سمبڑھ کے درمیان چلائی جارہی ایک پرائیویٹ بس کو چلانے پر اعتراض کیا گیا ہے اور ارکان کی طرف سے خط وکتابت کے بعد اس بس کو ARTO رام بن نے ضبط کیا ہے۔ منگل کے روز سمبڑھ اور اس کے اطراف کے سینکڑوں لوگوں نے ارکان کے اس فیصلے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے جس میں پنچایتی ممبران کے علاؤہ سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایس ار ٹی سے بس چلانے میں سرکاری ناکامی کے بعد انہوں نے ادہمپور اور سمبڑھ کے درمیان پچھلے ایک مہینے سے ایک پرائیویٹ بس سروس کو شروع کرایا تھا جس سے لوگوں کو راحت ملی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ارکان نے اب اس بس سروس کو بند کرایا ہے اور اسے اپنے بنائے گئے روڈ پر چلنے پر اعتراض جتایا ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔ مقامی شرپنچ اشرف علی نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ اس دور افتادہ علاقے کیلئے جلد از جلد بس سروسز چلائی جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس سلسلے میں سے بات کرنے پر آر ٹی او رام بن شفقت مجید نے کشمیرعظمی ٰکو بتایا کہ یہ بس سروس سمبڑھ کے پرخطر روڈ پر بغیر کسی اجازت کے چل رہی تھی اور اصل میں ریلوے ٹنلوں کی رسائی کیلئے بنائی گئی اس رابطہ سڑک پر تعمیراتی کمپنیوں کی بڑی گاڑیوں اور مشینری کو ہی چلنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے حال ہی میں ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے اور ان کی نگرانی میں اس کمیٹی نے حال ہی میں ہڑوگ سے سمبڑھ تک قریب بیس کلومیٹر لمبی اس سڑک کا معائنہ کرنے کے بعد سڑک کے دو تین خراب مقامات کی نشاندھی کرکے اس بارے میں ارکان انٹرنیشنل کو ایک رپورٹ بھیجی ہے جس میں ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد ان مقامات پر سڑک کو بہتر بنائیں تاکہ بس سروس کو شروع کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ دس پندرہ روز میں سڑک کے ان خطرناک مقامات کو ارکان کی طرف سے ٹھیک کرنے کی امید ہے اور اس کے بعد یہاں باضابطہ طور سرکاری بس سروس شروع کی جائے گی اور لوگوں کو اس کیلئے تعاون کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بس سروس چلانے سے پہلے ایک اونچی پہاڑی سے گذرنے والی سمبڑھ کی سڑک پر مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ان کیلئے اہم ہے اور اس کیلئے ارکان کو سڑک کا مرمتی کام کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ ادھر ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے علاقے کے ایک وفد کو بدھ کیلئے اپنے دفتر بلایا ہے تاکہ ان کے مطالبات کو سنا جا سکے۔