اشتیاق ملک
ڈوڈہ// ضلع ڈوڈہ میں جمعرات کو دوسرے روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ گزشتہ روز کی موسلا دھار بارش اور بعض علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث ہونے والی تباہی کے اثرات بدستور برقرار رہے۔شدید بارش سے ٹھاٹھری کلہوتران شاہراہ سمیت متعدد اندرونی دیہات کی رابطہ سڑکیں بری طرح متاثر ہوئیں ہیں ، کئی مقامات پر مٹی، پتھر اور ملبہ جمع ہونے سے آمدورفت میں مشکلات پیش آئیں، جبکہ زرعی اراضی اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔جمعرات کو موسم میں قدرے بہتری آنے کے بعد متعلقہ محکموں نے رابطہ سڑکوں سے ملبہ ہٹانے، پانی کی فراہمی اور بجلی کی بحالی کا کام تیز کر دیا۔تحصیل چلی پنگل میں تقریباً 17 گھنٹے کی طویل بندش کے بعد بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی، جس پر مقامی لوگوں نے جزوی راحت کا اظہار کیا۔
ادھر کئی علاقوں میں نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث بارش کا پانی سڑکوں اور آبادیوں میں جمع رہا، جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں نکاسیٔ آب کے مستقل انتظامات کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی فوری مرمت اور بنیادی سہولیات کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ بارشوں کے دوران عوام کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔اس دوران سب ڈویژنل مجسٹریٹ گندوہ ارون کمار بڈیال نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات کا جائزہ لیا، انہوں نے انتظامیہ و فیلڈ عملہ سے ہنگامی بنیادوں پر بنیادی مسائل کا حل کرنے و سڑک، پانی و بجلی نظام بحال کرنے کی ہدایت دی، کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام مشینری کو متحرک رکھا گیا ہے اور فیلڈ عملہ کو سیلاب متاثرہ علاقوں میں روانہ کرکے نقصانات کی رپورٹ طلب کی ہےْادھر ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر ڈوڈہ انل کمار ٹھاکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے موسم کے حوالے سے پہلے ہی ایڈوائزری جاری کی ہےاور انتظامیہ عوامی مسائل کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔