حسین محتشم
پونچھ // شدید برفباری اور موسلادھار بارش کے باوجود مغل روڈ کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر جزوی طور پر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق سڑک کو فی الحال سنگل لین کے طور پر قابلِ آمد و رفت بنایا گیا ہے، جس سے ضروری سفر کرنے والے مسافروں کو بڑی راحت ملی ہے۔اطلاعات کے مطابق 79 روڈ کنسٹرکشن کمپنی، جو 31 بی آر ٹی ایف/پروجیکٹ سمپرک کے تحت کام کر رہی ہے، نے پیر کی گلی ٹاپ جیسے دشوار گزار مقام پر انتہائی نامساعد موسمی حالات میں برف ہٹانے کی کارروائی کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ اس دوران مسلسل برفباری اور بارش کے باوجود عملے نے پیشہ ورانہ مہارت اور جانفشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک کو قابلِ استعمال بنایا۔حکام نے بتایا کہ مغل روڈ پر محدود پیمانے پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے، تاہم مکمل بحالی کے لیے سڑک کی مزید کشادگی (وائیڈننگ) کا عمل موسم میں بہتری آنے کے بعد شروع کیا جائے گا۔ فی الحال کئی مقامات پر سڑک تنگ ہے اور برف کے ڈھیر موجود ہیں، جس کی وجہ سے سفر میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔انتظامیہ نے مسافروں کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صرف ناگزیر حالات میں ہی مغل روڈ کا استعمال کریں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں بار بار لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ بدستور موجود ہے، جو کسی بھی وقت خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔مزید برآں، عوام الناس کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ سیاحتی یا تفریحی مقاصد کے لیے مغل روڈ کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کا فیصلہ کریں۔حکام نے اس مشکل مرحلے میں خدمات انجام دینے والی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت کے باعث ہی اس اہم شاہراہ کو دوبارہ کھولا جا سکا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جیسے ہی موسم بہتر ہوگا، مغل روڈ کو مکمل طور پر بحال کر کے عوام کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
غیر موسمی بارش اور برفباری کا دوسرا دن، جموں خطہ میں معمولاتِ زندگی متاثر
میدانی علاقوں میں بارش جبکہ بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری، درجہ حرارت میں کمی
میدانی علاقوں میں بارش جبکہ بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری، درجہ حرارت میں کمی
عظمیٰ نیوز سروس
راجوری // جموں صوبہ کے مختلف علاقوں میں غیر موسمی خراب موسم کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے۔ ہفتہ کے روز میدانی علاقوں میں درمیانی شدت کی بارش جبکہ بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری ریکارڈ کی گئی، جس نے عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا۔مسلسل بارش اور برفباری کے باعث سڑکیں پھسلن کا شکار ہو گئی ہیں جبکہ کئی مقامات پر حدِ نگاہ بھی کم ہو گئی ہے، جس سے آمد و رفت میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ مسافروں اور ڈرائیوروں کو خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
موسم کی اس غیر متوقع تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس نے اپریل کے مہینے میں ایک بار پھر سردی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ شہریوں کو دوبارہ گرم کپڑوں کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے، جو اس موسم میں غیر معمولی بات سمجھی جا رہی ہے۔انتظامیہ نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر مختلف اضلاع میں ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسمی حالات کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہیں۔ حکام نے شہریوں کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ ہیلپ لائن سروسز سے فوری رابطہ کریں۔سرکاری ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسم کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر عوام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔
راجوری اور پونچھ میں احتیاطی تدبیر کے تحت تعلیمی ادارے بند
حفاظتی خدشات کے پیش نظر فیصلہ، پیر کو دوبارہ کھولنے پر غور
حفاظتی خدشات کے پیش نظر فیصلہ، پیر کو دوبارہ کھولنے پر غور
عظمیٰ نیوزسروس
راجوری//جموں صوبہ کے اضلاع راجوری اور پونچھ میں ہفتہ کے روز تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے احتیاطی اقدام کے طور پر بند رکھے گئے۔ حکام کے مطابق موجودہ حالات کے پیش نظر طلبہ اور عملے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تعلیمی سرگرمیوں کی عارضی معطلی کا مقصد کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچاؤ اور طلبہ، اساتذہ و غیر تدریسی عملے کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسکول کھلے رکھنے سے غیر ضروری پریشانی اور خدشات پیدا ہو سکتے تھے، اسی لیے پیشگی اقدام کے طور پر تعطیل کا اعلان کیا گیا۔حکام نے مزید واضح کیا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر احتیاطی نوعیت کا ہے اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مناسب وقت پر تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ بحال کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ پیر کے روز اسکولوں کو دوبارہ کھولنے یا بند رکھنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ حالات میں بہتری کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ اگر صورتحال سازگار رہی تو تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھول دیے جائیں گے، بصورت دیگر طلبہ کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔والدین اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ طلبہ کی سلامتی کے حوالے سے کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔