لمحہ ٔ فکریہ
شوکت علی تانترے
آج کے اس تیز رفتار اور مصروف دور میں انسان ترقی تو بہت کر گیا ہے، مگر اس ترقی کی دوڑ میں وہ اپنے قیمتی رشتوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ آج سے تقریباً تیس سال پہلے گاؤں اور محلّوں میں جو محبت، خلوص اور اپنائیت نظر آتی تھی، وہ آج کے دور میں بہت کم دکھائی دیتی ہے۔اُس زمانے میں لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ اگر کسی کے گھر خوشی ہوتی تو پورا محلہ اس خوشی میں شامل ہوتا تھا، اور اگر گاؤں میں کوئی شخص بیمار پڑ جاتا تھا تو لوگ اس کے گھر جا کر اس کی خیریت دریافت کرتے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کے کام آتے تھے اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ گاؤں اور محلّوں میں ایسا لگتا تھا جیسے سب لوگ ایک ہی خاندان کا حصہ ہوں۔لیکن آج کے دور میں حالات بہت بدل چکے ہیں۔ لوگ اپنی مصروفیات اور ذاتی مفادات میں اس قدر الجھ گئے ہیں کہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی خبر تک نہیں رکھتے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ تین چار مہینے گزر جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملاقات تک نہیں ہوتی۔ رشتوں میں پہلے جیسی محبت اور گرمجوشی باقی نہیں رہی، بلکہ اکثر رشتے سرد مہری کا شکار ہو گئے ہیں۔آخر کہاں گئے وہ دن جب لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے تھے اور خوشی سے ملتے تھے؟ آج اکثر لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر کتراتے ہیں اور دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپسی بھائی چارہ کمزور پڑ گیا ہے اور رشتے صرف نام کے رہ گئے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم دوبارہ اپنے رشتوں کی قدر کریں، ایک دوسرے کے ساتھ محبت، خلوص اور ہمدردی کا برتاؤ کریں۔ اگر ہم اپنے رویّوں میں نرمی اور اپنائیت پیدا کریں تو یقیناً معاشرے میں وہی پرانی محبت اور بھائی چارہ دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔چنانچہ اب یہ بات عیاں ہورہی ہے کہ موجودہ جدید دور میں ہمارا معاشرہ تیزی سے بدل رہا ہےاور یہ افسوسناک حقیقت بھی سامنے آ رہی ہے کہ والدین اور بچوں کے درمیان محبت، احترام اور قربت پہلے جیسی نہیں رہی۔ آج کل بہت سے گھروں میں بچوں کا اپنے والدین اور بزرگوں کے ساتھ رویہ سرد اور بے پرواہ نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے خاندانی نظام کمزور ہوتا جا رہا ہے۔اس بے رُخی کی کئی وجوہات ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، موبائل فون اور سوشل میڈیا نے انسان کو اپنے خاندان سے دور کر دیا ہے۔ بچے اپنا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ اور موبائل پر گزارتے ہیں جس کی وجہ سے وہ والدین کے ساتھ بیٹھنے اور ان سے بات کرنے کا وقت کم دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مصروف طرزِ زندگی اور دنیاوی دوڑ بھی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے۔ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ آج کل بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت پر پہلے جیسی توجہ نہیں دی جاتی۔ اگر بچپن سے ہی بچوں کو دین کی تعلیم، والدین کی عزت اور بزرگوں کا احترام سکھایا جائے تو وہ بڑے ہو کر بھی ان اقدار کو نہیں بھولتے۔ اسلام ہمیں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت اور خدمت کا درس دیتا ہے۔
لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں اور انہیں دین و اخلاق کی تعلیم دیں۔ اسی طرح بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والدین اور بزرگوں کی قدر کریں کیونکہ والدین وہ ہستیاں ہیں جو اپنی پوری زندگی بچوں کی خوشیوں کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ اگر ہم اپنے گھروں میں محبت، احترام اور اچھی تربیت کو فروغ دیں تو والدین اور بچوں کے درمیان بے رُخی ختم ہو سکتی ہے اور ہمارا معاشرہ ایک بار پھر مضبوط اور خوشحال بن سکتا ہے۔
رابطہ۔9797434349
[email protected]