جموں // بجٹ کو اعدادوشمار کی بازی گری قرار دیتے ہوئے ممبر اسمبلی نگروٹہ نے کہا کہ اس میں ریاستی معیشت کے اہم شعبوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جبکہ ممبر اسمبلی اوڑی محمد شفیع اوڑی نے کہا کہ بی جے پی کو اگر پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کا احترام ہے تو انہیں دفعہ 370پر اپنا موقف تبدیل کرنا چاہئے ۔کانگرنس لیڈر نوانگ ریگزن جورا نے کہا کہ سرکاری دعوﺅں کے بعد بھی ریاست میں کرپشن میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوئی ہے۔حکیم محمد یاسین نے کہا کہ متواتر طور سیاسی استحکام کی وجہ سے زمینی سطح پر انتظامیہ میں جوابدہی اور شفافت کا فقدان پایا جاتا رہا ہے۔قانون ساز اسمبلی میں جمعہ کو زیر خزانہ کی طرف سے پیش کئے گئے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ممبر اسمبلی نگروٹہ دیوندر سنگھ رانانے بجٹ کو اعدادوشمارکی بازی گری قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس میں ریاستی معیشت کے اہم شعبوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی سمت بیان کی گئی ہے ۔بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے رانا نے کہاکہ حکومت کی طرف سے نافذ کئے گئے جی ایس ٹی کے کوئی اچھا کام نہیں کیا ۔ان کاکہناتھاکہ وزیر خزانہ سرمایہ کاری ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے دعوے کررہے ہیں لیکن بجٹ میں یہ تمام چیزیں غائب ہیں ۔انہوںنے کہاکہ حکومت متبادل اختیار نہیں کررہی جس سے صنعتی ترقی کیلئے دروازے کھل سکتے تھے تاہم انہیں پچھلے تین سال سے صرف ایک چیز بار بار دکھائی جارہی ہے ۔انہوںنے غیر ہنر مند ورکروں کی یومیہ اجرت 225سے بڑھاکر 325کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ٹھیکیداروں کی رقومات واجب الاداہیں ۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی جانب سے واجبات کو کم کرنے کے دعوے محض جھانساہے ۔بجٹ پربحث کے دورا ن نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور ممبر اسمبلی اوڑی محمد شفیع اوڑی نے بی جے پی سے کہا کہ وہ آرٹیکل 370 پر موقف تبدیل کر کے پی ڈی پی کے ساتھ اپنے اتحاد کا احترام کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست جموں وکشمیر کی سیاسی حیثت کے بارے میں سیاسی معاملات پر پی ڈی پی اور بی جے پی نے اپنی اپنی پوزیشن اختیار کی ہے جس سے ریاست میں پی ڈی پی کی خالت خراب ہوتی دیکھائی دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370کے متعلق اگرچہ بی جے پی اینا موقف تبدیل کرے گئی تو وادی میں کسی حد تک پی ڈی پی کی پوزیشن ٹھیک ہو سکتی ہے ۔انہوں نے بجٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں اگرچہ باغبانی کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے کچھ اقدامات کئے گئے ہیں لیکن زراعت جو ریاست کی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے کو جدید ٹیکنالوجی کے عمل کے فروغ دینے کے اقدامات کے طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں ریاستی سرکار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ مرکزی سرکار نے ریاست میں بجلی شعبہ کو بہتر بنانے کےلئے بڑے پیمانے پر اقدمات کئے ہیں وہیں بجلی کی ابتر صورتحال نے حکومت کی ناکامی کو ظاہر کیا ہے کہ حکومت کس طرح لوگوں کو بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ریاست میں بجلی سپلائی اور ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کےلئے اقدمات کرنے تھے ۔