محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ کا تاریخی اور اہم آبی گزرگاہ بتاڑ نالہ ان دنوں لینڈ مافیا اور مفاد پرست عناصر کی سرگرمیوں کے باعث شدید خطرے سے دوچار ہے۔ برسات کے موسم میں اپنی تیز رفتار لہروں اور طغیانی کے لیے مشہور یہ نالہ اب بتدریج سکڑتا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے قدرتی بہاؤ کے راستے، خصوصاً فلڈ زون، پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات قائم کر لی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق، چور پندی کے علاقے میں سیلابی ریلے کے عین راستے میں متعدد پختہ ڈھانچے اور مکانات تعمیر کیے جا چکے ہیں، جو نہ صرف ماحولیاتی اصولوں بلکہ سرکاری قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ نالے کا قدرتی راستہ تنگ ہونے کے باعث معمولی بارش بھی قریبی آبادیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جبکہ شدید بارش یا سیلاب کی صورت میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔معروف سماجی کارکن یوگل کشور شرما نے اس معاملے کو اجاگر کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بعض افراد ماضی میں سیلاب یا زمین کے کٹاؤ کے نام پر حکومت سے معاوضہ حاصل کرنے کے باوجود نہ صرف وہ جگہ خالی کرنے میں ناکام رہے بلکہ دوبارہ اسی سرکاری اراضی پر قبضہ جما کر پختہ تعمیرات کر لی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2020-21 کے دوران بھی ایسے ہی عناصر نے فائر بریگیڈ کے قریب ایک سرکاری عمارت پر قبضہ کیا تھا، جسے انتظامیہ نے کارروائی کر کے واگزار کرایا تھا۔شرما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان عناصر کی سرگرمیاں محض زمین پر قبضے تک محدود نہیں بلکہ یہ گروہ مبینہ طور پر سماجی برائیوں میں بھی ملوث ہے، جس سے علاقے کا امن و امان متاثر ہو سکتا ہے۔ سرحدی ضلع ہونے کے باعث انہوں نے ان غیر قانونی بستیوں کو سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ قرار دیا۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر پونچھ اشوک کمار اور ایس ایس پی پونچھ شفقت حسین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے فلڈ زون میں قائم تمام غیر قانونی ڈھانچوں کو مسمار کریں اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ادھر عوامی حلقوں نے بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے، بصورت دیگر کسی بھی ممکنہ سیلابی آفت کی صورت میں ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری متعلقہ محکموں پر عائد ہوگی۔