منڈی//ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے علاقہ بایلہ کا طبی مرکز گزشتہ پچیس برسوں سے تشنہ تعمیر ہے جس کی وجہ سے اس علاقہ کے لوگوں کو اپنے علاج معالجہ کے سلسلہ میں سب ضلع ہسپتال منڈی جانا پڑتا ہے۔پچیس برس قبل محکمہ دہی ترقی کی جانب سے منڈی بایلہ میں ایک طبی مرکز کی تعمیر شروع کی گئی تھی جس کی تعمیر مکمل ہو جانے کے بعد بھی متعلقہ محکمہ کی جانب سے محکمہ صحت کو نا معلوم وجوہات کی بنا پر نہیں سونپی گئی تھی لیکن عمارت اس وقت انتہائی خستہ حال ہو چکی ہے ۔طبی سہولیات کیلئے علاقہ بایلہ کے پانچ ہزار سے زائد لوگوں کو سب ضلع ہسپتال منڈی جانا پڑتا ہے۔ علاقہ کے لوگوں کے مطابق اگرچہ سرکار کی جانب سے اس علاقہ کے لوگوں کو بہتر طبی سہولیات پہنچانے کیلئے ایک طبی مرکز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا مگر اسوقت کی سرکاروں کی غفلت شعاری سے طبی مرکز کی عمارت زمین بوس اور بوسیدہ ہوچکی ہے۔لوگوں نے بتایا کہ اس معاملہ کو لے کر بارہا انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ کے آفسران سے رجوع کیا گیا مگر کسی نے بھی اس معاملہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی وجہ سے اس عمارت کی حالت ابتر بنی ہوئی ہے۔سرپنچ منڈی مبشر حسین نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ لگ بھگ پچیس برس گزرگئے مگر ابھی تک بایلہ علاقے کا طبی مرکز تعمیر نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بلاک میڈیکل آفسر منڈی سے جب بات کی تو انہوں نے ان کو بتایا کہ محکمہ دہی ترقی نے اس عمارت کی تعمیر کی تھی مگر آج تک یہ عمارت محکمہ صحت کو نہیں سونپی گئی ۔سرپنچ کا کہنا تھا کہ اب انہوں نے عمارت کے تمام کاغذات نکلوائے ہیں اور اس طبی مرکز کی عمارت کو اب بہتر ڈھنگ سے تعمیر کیا جائے گا تاکہ اس علاقہ میں بسے لوگوں کو طبی سہولیات کیلئے منڈی یا پونچھ کے ہسپتالوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔پنچایتی اراکین نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ از خود اس طبی عمارت کی تعمیر کیلئے محکمہ دہی ترقی کے آفسران کو ذمہ دار بنایں تاکہ عوام کے مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔