سری نگر//پرنسپل سیکریٹری زرعی پیداوار و بہبود کساناں نوین کمار چودھری نے سول سیکرٹریٹ میں جموں وکشمیر کے لئے ایگریکلچر ۔ ہارٹیکلچر ایکسپورٹ اور آرگنک پالیسیوں کے ڈرافٹ پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے اَفسران کے میٹنگ کی صدارت کی۔پرنسپل سیکرٹری نے آرگنک فارمنگ اور ایگریکلچر ۔ ہارٹیکلچر ایکسپورٹ پالیسی (2021-25) کے ڈرافت پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے پی آر آئی کو شامل کر کے نچلیل سطح پر خصوصی ایگر یکلچر ۔ ہارٹیکلچر مصنوعات کی مناسب برانڈنگ ، مارکیٹنگ اور برآمد کے حوالے سے بڑے پیمانے کی آگاہی کے لئے ممبران پر زور دیا تاکہ کاشت کار اَپنی فصلوں کو نامیاتی میں تبدیل کرسکیں۔اُنہوں نے کہا کہ شروعات کے لئے 4۔5 پنچایتوں کے ساتھ سمال کلسٹر تشکیل دئیے جاسکتے ہیں اور اگلے درجے تک لے جاسکتے ہیں تاکہ زیادہ کاشت کاروں کو نامیاتی کاشت کاری کی طرف راغب کیا جاسکے۔نوین چودھری نے روایتی کیمیائی کھادوں کے بجائے سوئیل ٹریٹمنٹ ، بیجوں ، پودوں ، نامیاتی کھادوں کے ذریعے کسانوں کے حوالے سے موجودہ وسائل کو بروئے کار لانے پر زور دیا۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ ملک بھر کے نامور سائنس دانوں اور تجربہ کار کسانوں کو مد عو کریںجو نامیاتی کھیتی باڈی میں مہارت اور تجربہ رکھتے ہیں تاکہ کاشت کاروں کو نامیاتی کی طرف راغب کیا جاسکے۔اِس کے علاوہ اُنہوں نے میٹنگ کے شرکأ سے کہا کہ وہ تمام زراعت اور باغبانی محکمہ فارموں کو نامیاتی خطوط پر استوار کریں۔اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ ایس کے یو اے ایس ٹی ۔ جے کے تعاون سے سمینار کا اہتمام کریں تاکہ ایگریکلچر ایکسپورٹس/ نامیاتی کلسٹر سے متعلقہ پروجیکٹ رپورٹ مرتب کی جائے تاکہ مزید منظوری کے لئے نبارڈ کو پیش کیا جاسکے۔آرگنک سرٹیفکیشن ایجنسی کے بارے میں بتایا گیا کہ تشکیل اور نامیاتی سرٹیفکیشن ایجنسیاں دونوں ہی صوبائی سطح پر منظور ی دے چکی ہیں۔اِس موقعہ پر اے پی ای ڈی اے کے ماہرین نے جموں و کشمیر کے لئے مجوزہ ایکسپورٹ پالیسی پر آن لائن پرزنٹیشن پیش کی اوریوٹی سے زرعی برآمدات کے فروغ میں پالیسی کی ضرورت اور رُکاوٹوں پر تبادلہ خیال کیا۔پرنسپل سیکرٹری نے میٹنگ کو بتایا گیا کہ زرعی برآمدات کے لئے ایک نوڈل آفیسر جلد مقرر کیا جائے گا۔