امریکہ میں جنیاتی طور پر ترمیم شدہ خنزیر کا دل انسان میں ٹرانسپلانٹ transplant کرنے کے تجربے کا پہلا مرحلہ 'زینو ٹرانسپلانٹیشن (xeno transplantation )کامیاب ہو گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریض کےجسم نے اسے قبول کر لیا اور 57 سالہ مریض ڈیوڈ بینٹ (David Benet) کے جسم میں لگا ،اس کا دِل نکال دیا گیا اور اب وہ مکمل طور پر نئے ٹرانسپلانٹ دل پر نہ صرف زندہ ہے بلکہ بات چیت بھی کرنے کی کوشش جاری ہے۔
ڈیوڈ بینیٹ ایک 57 سالہ امریکی شہری ہیں جو کئی سال سے دل کی ایک سنگین بیماری میں مبتلا تھا۔ جسے دل کی تبدیلی کی ضرورت تھی لیکن گزشتہ تین ماہ سے وہ لمحہ بہ لمحہ موت کے انتظار میں بستر پر پڑا تھا اور اُس وقت وہ انسانی دل کی پیوند کاری کے لیے اہل نہیں تھا، اس لیے اُس نے تجرباتی ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا کہ یہ اپنی نوعیت کا بالکل نیا ہے، اسے انسانی دل کی بجائے سور کا دل ملتا ہے ۔بقول ڈیوڈ ’’یا تو میں مر جاؤں یا مجھے یہ ٹرانسپلانٹ ہو جائے‘‘۔ بینیٹ کہتے ہیں۔ ’’میں جینا چاہتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ یہ اندھیرے میں گولی مارنے کے برابر ہے ، لیکن یہ میرا آخری آپشن ہے‘‘۔اور اس کام کو سر انجام دینے والے ڈاکٹروں میں ڈاکٹر منصور محی الدین کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور وہیں سول اسپتال میں ہاؤس جاب بھی حاصل کی، جس کے بعد وہ 1991 میں امریکہ آ گئے تھے۔ امریکہ آنے کے بعد وہ یہاں اس ادارے میں تحقیق اور تالیف میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ یہ آپریشن کئی دن پہلے یعنی جنوری 2022 کے پہلے نصف کے دوران، امریکن یونیورسٹی آف میری لینڈ ہسپتال میں کیا گیا تھا، اور امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ’’ہمدردی کے استعمال ‘‘کی پالیسی کے ذریعے نئے سال کے موقع پر اس غیر معمولی سرجری کو کرنے کی ہنگامی طور پر اجازت دی تھی۔ تجرباتی طبی طریقہ کار کے، اس صورت حال میں ایک سنگین اور جان لیوا طبی حالت کا سامنا کرنے والے مریض کے لیے(PIG)’ سور‘ کا دل واحد آپشن تھا، لیکن یہ صرف ایک عام سور کا دل نہیں تھا۔حقیقت میں اگر یہ ایک عام سور کا دل ہوتا،تو مریض کا جسم اسے فوراً رد کرتا اور مریض کی موت ہوسکتی تھی ۔یہ اُس سور کا دل تھاجن پر سنٹر فار انوویٹیو میڈیکل کالج ماڈلز میونخ میں کام کرتا ہے اور یہ سور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ تھا ۔
2021 میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا کہ جب خنزیر کی کڈنی کو ٹرانسپلانٹ kidney transplant کیا گیا تھا تو بہت سے مسلم علماء نے اسے جائیز قرار دیا۔
مگر خنزیروں کے حوالے سے سخت پابندیوں کے حامل مذاہب یہودیت اور اسلام کے ماننے والوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔جبکہ عیسائیوں کی کتاب میں سور کے گوشت کو تردید کی گئی ہیں ۔جیسے قرآن میں سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ترجمہ)’’اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے، کہ مردار نہ کھاؤ، خون سے اور سُور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سِوا کسی اور کا نام لیا گیاہو، ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہواور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے‘‘۔اور ایک جگہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :(ترجمہ(:’’اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے وہ ہے مُردار اور خُون اور سُوٴر کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ البتہ بھُوک سے مجبور ہو کر اگر کوئی اِن چیزوں کو کھالے، بغیر اس کے کہ وہ قانونِ الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو، یا حدِّ ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو ، تو یقیناً اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (سورہ النحل )اسی طرح اگر ہم بائبل کو پڑھیں گے جو عیسائی مذہب کی اہم کتاب ہے ۔بائبل میں لکھا ہے :
(Chapter no 11 book of
lavates verse no 8and 7)
’’ سور کے پیر کانٹے ہیں، وہ آپ کے لیے غلیظ ہے اور اس کے ڈھانچے کو ہاتھ مت لگاؤ ‘‘۔اگر ہم ہندو مذہب کی مہشور کتاب مانسپرتی دیکھیں تو وہاں باب 5 لکھا گیا ہے کہ ایک برہمن کبھی بھی مشروم،سور، garlic گارلک اور مرغی کبھی بھی نہیں کھائے گا ۔۔۔اس کے آگے لکھا ہے کہ اگر کوئی حرام گوشت بھیجتا ہے، تو آپ اس کے ہاتھ کاٹ دو‘‘ ۔اگر ہم سائنس کی بات کریں تو سائنس کے مطابق سور کا گوشت کھانے سے تقریباً 70 بیماریاں ہوسکتی ہے ۔ویسے تو یہودی مذہبی قانون میں سؤروں کی پرورش اور اُنھیں کھانے پر پابندی ہے مگر لندن کے ایک سینیئر ربی ڈاکٹر موشے فریڈمین کا کہنا ہے کہ سور سے دل کا حصول 'یہودی ضوابطِ خوراک کی کسی بھی طرح خلاف ورزی نہیں ہے۔
ڈاکٹر موشے فریڈمین برطانوی محکمہ صحت کے اخلاقی مشاورتی گروپ (ایم ای اے جی) کے بورڈ میں بھی ہیں۔اُنہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'چونکہ یہودی قانون میں بنیادی اہمیت انسانی جان بچانے کی ہے، اس لیے اگر جانور سے اعضا کا حصول کسی انسان کو جینے کا بہترین امکان اور مستقبل میں بہترین معیارِ زندگی فراہم کر سکتا ہے تو کسی یہودی مریض پر کسی جانور سے عضو کا حصول لازم ہو جائے گا۔مصر کے دارالافتا نے اپنے ایک فتوے میں کہا ہے کہ اگر 'مریض کی زندگی ختم ہونے، اس کے کسی عضو کی ناکامی، مرض کے پھیلنے اور شدید تر ہونے، یا جسم کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو سور کے دل کے والیو انسان کو لگائے جا سکتے ہیں۔
عالم اسلام کے ایک نامور فقہی ڈاکٹر الشوکانی کا کہنا ہے کہ خنزیر ناپاک نہیں ہے، لیکن اس کا گوشت کھانا حرام ہے، کیا اس کے کھانے کی ممانعت اسلامی قانون کے مطابق، گوشت کھانے کے علاوہ اس کے جسم کے باقی حصوں مثلاً ہڈیوں، بالوں سے فائدہ اٹھانے سے روکتی ہیں ۔ جیسا کہ فقہاء کے اقوال میں مشہور ہے۔
ڈاکٹر الشوکانی کہتے ہیں کہ واضح رہے کہ قرآن کریم نے خنزیر کی حرمت کا ذکر نہیں کیا ،سوائے اس کے گوشت کے ذکر کے ساتھ۔ اس نے پھر کہا: (مجھے ایسا لگتا ہے کہ سور کے ساتھ گوشت کا لفظ جوڑنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حرام اس کا گوشت کھانا ہے) اور یہ اشارہ ہے، سوائے اس کے گوشت کے کھانے کے اس کے پرزہ جات استعمال کرنے کے، اس میں دوسرے جانوروں کی طرح ہے)الشوکانی نے کہا: اس کا قول: (یا خنزیر کا گوشت) گوشت کے ساتھ مخصوص معلوم ہوتا ہے کہ گوشت کے علاوہ اس سے فائدہ اٹھانا حرام نہیں، یہی وجہ ہے کہ عصر حاضر کے فقہاء نے اس قول کی بنیاد پر سور کی ہڈی کے استعمال کے حکم کے بارے میں بات کی ہے، اور سور جیلیٹن سے استفادہ کیا ہے، جب کہ کوئی اور جانور جیلیٹن جائز نہیں ہے، اور یہی وہ چیز ہے جسے ہم استعمال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ زیادہ تر ادویات میں جو یورپ سے لائی جاتی ہیں، اس پر پگ جیلیٹن ڈالیں ، تاکہ اسے یہ ساخت ملے۔اور آج بھی فقہا کا رویہ کچھ اسی طرح رہا،جب حال ہی میں امریکہ میں جینیاتی طور پر ترمیم شدہ خنزیر کا دل انسان میں ٹرانسپلانٹ کرنے کا تجربہ کیا گیا ہے ۔لہٰذا، زندہ سور کے جسم سے پورے عضو کو انسان میں پیوند کرنا کچھ لوگوں کے لیے ایک متنازعہ موضوع ہے۔
تاہم امریکی ریاست ورجینیا کی ’’دار الحجرہ‘‘ مسجد کے امام شیخ فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ ایسی شرائط ہیں، اگر وہ پوری ہو جائیں تو خنزیر سے انسانی عضو کی منتقلی کا عمل جائز ہو جاتا ہے۔ صدیقی صاحب کی بات سے اتفاق کر بھی لیا جائے تو ’’تقویٰ‘‘ مشکوک ہو جاتا ہے ۔الحررہ کے ساتھ ایک انٹرویو میںصدیقی صاحب نے مزید کہا کہ ’’پہلی شرط یہ ہے کہ مریض کی جان کو خطرہ ہو‘‘ اور دوسری شرط یہ ہے کہ ’’مریض کی جان بچانے کا یہی واحد حل ہے‘‘۔صدیقی نے زور دے کر کہا کہ اگر دونوں شرائط پوری ہو جائیں تو اسلام میں منتقلی کی اجازت ہے۔شیعہ مسلمانوں کا موقف اس رائے سے مختلف نہیں ہے، کیونکہ شیخ مصطفیٰ اخوند جو ورجینیا میں امام علی اسلامک سینٹر کے امام ہیں، بھی کہتے ہیں کہ آپریشن ’’جب تک انسانی جان بچانے کے لیے ضروری ہے، حلال ہے‘‘۔
)رابطہ۔9596402379)