عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے دوبارہ شروع ہونے کے بعد ایوان میں فہرست شدہ امور لیے گئے اور مرکزی وزیر محنت منسکھ منڈاویا نے انڈسٹریل ریلیشن کوڈ ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک مختصر ترمیم لے کر آئی ہے اور ایوان سے گزارش کی کہ بل پر غور کر کے اسے منظور کیا جائے۔ اپوزیشن کی جانب سے کے سریش نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مزدوروں کے مفاد میں نہیں ہے۔لوک سبھا میں این سی پی (ایس پی) کی رکن پارلیمنٹ سپریہ سسولے نے کہا کہ وہ سرمایہ داری کے خلاف نہیں ہیں لیکن مزدوروں کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مزدور ہندوستانی ہے اور ہر ہندوستانی کو حقوق حاصل ہیں۔ ان حقوق کے تحفظ کے لیے وہ ہمیشہ لڑیں گے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راجیو شکلا نے راجیہ سبھا میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیپ فیک ویڈیوز کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اسے سماج کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ شونیہ کال کے دوران انہوں نے کہا کہ آج کوئی بھی شخص محض ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے کسی کی آواز اور چہرہ نقل کرتے ہوئے من گھڑت ویڈیو تیار کر سکتا ہے، جو تیزی سے وائرل ہو جاتی ہے۔راجیو شکلا نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایسا کوئی مؤثر نوڈل نظام موجود نہیں جو ڈیپ فیک ویڈیوز کی بروقت نشاندہی کرے اور ان کے خلاف کارروائی کر سکے۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں پاکستان کے کچھ چینلوں نے ورلڈ کپ سے متعلق باتوں کو جوڑ کر ان کا جعلی ویڈیو تیار کیا، جس پر انہیں وضاحت جاری کرنی پڑی۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران سیاست دانوں کے بیانات کے جعلی ویڈیوز بھی بڑے پیمانے پر گردش کرتے ہیں، جس سے عوام کا اصل ویڈیوز پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ راجیو شکلا کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تردید جاری کرنے سے پہلے ہی نقصان ہو چکا ہوتا ہے، اس لیے فوری کارروائی کے لیے ایک نوڈل ایجنسی قائم کی جانی چاہیے۔