حسین محتشم
پونچھ//بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے صدر بھوپیندر پال سنگھ میں پارٹی کے ضلعی دفتر پہنچ میں ذرا ابلاغ کے نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کی اعلیٰ قیادت، ضلعی اور ریاستی ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں خطے کے نوجوانوں کی نمائندگی اور قیادت کی ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے اس اعتماد کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وہ نوجوانوں کی آواز کو ہر سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کریں گے۔اپنے خطاب میں بھوپیندر پال سنگھ نے نیشنل لا یونیورسٹی (NLU) کے قیام سے متعلق جاری تنازعہ پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس فیصلے کو یکطرفہ اور متعصبانہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ اقدام نیشنل کانفرنس کے اثر و رسوخ کے تحت کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پونچھ اور راجوری کے نوجوانوں کی جانب سے اس ادارے کے قیام کے لیے جاری احتجاج اور مطالبات کو نظر انداز کیا جانا افسوسناک ہے، جو خطے کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔انہوں نے پونچھ کے مقامی رکن اسمبلی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسمبلی میں اس فیصلے کی حمایت کر کے نہ صرف حکومت بلکہ نیشنل کانفرنس کی قیادت کی تعریف کی، بلکہ اپنے ہی حلقے کے عوامی جذبات اور نوجوانوں کی امنگوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔ ان کے مطابق یہ رویہ عوامی نمائندگی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔بھوپیندر پال سنگھ نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور مساوی ترقی کو فروغ دینے کے لیے مؤثر پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے کے نوجوانوں کے مسائل اور مطالبات کو ہر فورم پر بھرپور انداز میں اٹھاتے رہیں گے اور ان کی آواز کو طاقت بخشنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں۔