محتشم احتشام
پونچھ// قومی صحت مشن (این آر ایچ ایم) کے ملازمین کی جانب سے 72 گھنٹوں پر محیط ہڑتال نے صحت کے نظام کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف طبی مراکز میں خدمات تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہ ہڑتال مبینہ طور پر 2.5 دن کی تنخواہ کٹوتی کے فیصلے کے خلاف کی جا رہی ہے، جس پر ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ہڑتال کے دوران او پی ڈی خدمات، معمول کے طبی معائنے اور دیگر بنیادی سہولیات بری طرح متاثر ہوئیں، جس سے عام مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دیہی اور دور دراز علاقوں میں صورتحال مزید سنگین دیکھی گئی، جہاں پہلے ہی طبی سہولیات محدود ہیں۔ضلع ہسپتال پونچھ میں ہڑتال پر بیٹھے ملازمین کا کہنا ہے کہ 2.5 دن کی تنخواہ کٹوتی کا فیصلہ غیر منصفانہ اور یکطرفہ ہے، جسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ پہلے ہی محدود وسائل اور دباؤ کے ماحول میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ایسے میں اس طرح کی کٹوتی ان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ہڑتالی ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرے اور ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔دوسری جانب متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور جلد ہی کوئی قابلِ قبول حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ صحت کی خدمات کو معمول پر لایا جا سکے۔ تاہم تاحال کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق اس نوعیت کی ہڑتالیں نہ صرف نظامِ صحت کو کمزور کرتی ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں فریقین کو افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنا چاہیے تاکہ مریضوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔عوامی حلقوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور ملازمین کے درمیان فوری مذاکرات ہوں اور اس تنازع کا جلد از جلد حل نکالا جائے، تاکہ صحت کی بنیادی سہولیات بحال ہو سکیں اور عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو۔