ایک نہایت ہی قابل سرکاری استاد (مرسلین) سے میں نے جب پوچھا کہ آپ جاری انرولمنٹ ڈرائیو کو کیسے دیکھتے ہیں ۔اُن کا جواب سُن کر میں واقعی دنگ رہ گیا ۔سرکاری استاد نے کہا کہ جس سکول میں وہ تعینات ہیں وہاںگذشتہ سال نومبر میں پچاس سے زائد نئے طلبہ اندراج ہوئے تاہم جب رواں سال مارچ میں سرمائی تعطیلات کے بعد سکولوں میں درس و ردریس کا عمل شروع ہوا تو یہاں تعینات آٹھ کے قریب اساتذہ شاذونادر ہی سکول کا رُخ کیا کرتے تھے،جس سے بچوں کی تعلیم بُری طرح سے متاثر ہوئی۔
مرسلین نے کہا کہ جب انہوں نے دیگر اساتذہ کو جوابدہ بنانے کی کوشش کی تو اُن کے خلاف محاذ کھڑا کیا گیا یہاں تک کہ متعلقہ اعلیٰ افسروں کو بھی مذکورہ استاد کے خلاف اُکسایا گیا ۔
مرسلین کا کہنا تھا کہ رواں سال اپریل میں کووِڈکی وباکے سبب، جب سکول بند کرانے کے احکامات صادر کئے گئے تو انہوں نے بارہا اپنے ساتھیوں کو آن لائن مود کے ذریعے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کی طرف مائل کرانا چاہا تاہم بقول اُن کے ایسا کبھی بھی ممکن نہیں ہوپایا۔ان کا کہنا تھا کہ جب رواں سال اگست میں دوبارہ آف لائن کلاسز شروع کئے گئےتو اس بار بھی یہاں تعینات اساتذہ نے اپنے فرائض سے رو گردانی کی،یہاں تک کہ سالانہ امتحان منعقد کرانے میں بھی اساتذہ نے لیت و لعل سے کام لیا۔
مرسلین کا کہنا تھا کہ جب ستمبر میں امتحان شروع ہوا تو پہلے دن بارہ بجے تک کسی بھی استاد نے سکول آنے کی زحمت گوارا نہیں کی ،یہاں تک کہ متعلقہ اساتذہ نے question papersبھی مرتب نہیں کئے تھے۔
مرسلین نے کہا کہ جب اساتذہ بارہ بجے کے بعد سکول پہنچے، تب جاکے انہوں نے Paper setکئے اور پھرایک بازارجاکر مذکورہ استاد نے xerox copiesکراکے قریب ایک بجے امتحان شروع کیا جو date sheet کے مطابق گیارہ بجے لینا مطلوب تھا۔
اساتذہ کی اپنے فرائض کے تئیں روگردانی کا صلہ یہ ہے کہ اب بیشتر والدین یہاں سے اپنے بچوں کا اخراج کراکےنجی تعلیمی اداروں میں ان کا اندراج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
مرسلین نے انرولمنٹ ڈرائیو میں دوبارہ شرکت نہ کرنے کا عہد کرکے کہا کہ یہ خالی ایک publicity stuntہے،جس سے خزانہ عامرہ پر ایک نیا بوجھ لادنے کی کامیاب کوشش کی جارہی ہے۔
)رابطہ۔7006051137)