یواین آئی
ماسکو// ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ملک کے حکام اس وقت خطے میں تنازعات کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہے ہیں، ایرانی ٹیلی ویڑن چینل پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ امریکہ مختلف ثالثوں کے ذریعے تہران کو پیغامات پہنچاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات جاری ہیں۔24 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھاکہ سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ امریکی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔ امریکی صدر نے کہا تھاکہ مذاکراتی عمل اتوار کو دوبارہ شروع ہوا اور اس نے تنازع کو حل کرنے کے لیے تہران کے سنجیدہ ارادے کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی ہے۔28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں مختلف اہداف پر حملے شروع کیے تھے، جس سے شہریوں کو نقصان اور ہلاکتیں ہوئیں۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی سرزمین اور امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔امریکہ اور اسرائیل نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے آنے والے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کا “پہلے سے” حملہ ضروری تھا، لیکن انہوں نے جلد ہی واضح کر دیا کہ وہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔
عراقچی اورقالیباف
عارضی طورہدف فہرست سے خارج
یواین آئی
واشنگٹن// امریکہ اور اسرائیل نے عارضی طور پر دو ایرانی عہدیداروں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کو ہدف کی فہرست سے نکال دیا۔امریکی جریدہ کے مطابق امریکی حکام نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے عارضی طور پر دو سینئر ایرانی عہدیداروں کو اپنے ہدف کی فہرست سے نکال دیا ہے تاکہ وہ ممکنہ امن مذاکرات کی تلاش میں رہیں۔
حکام نے بتایا کہ ایرانی پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو چار یا پانچ دنوں کے لیے ہدف کی فہرست سے ہٹایا گیا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا دروازہ کھول دیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ترکی، پاکستان اور مصر سے تعلق رکھنے والے ثالث جلد امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں سے ملاقات کے لیے زور دے رہے ہیں تاکہ جنگ کو روکنے کے بارے میں بات چیت کی جا سکے۔دوسری طرف حکام کا کہنا ہے کہ کامیابی کے امکانات کم ہیں کیونکہ امریکہ اور ایران کے مطالبات کے درمیان بڑا فرق ہے۔ ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ سے کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔ غیرملکی میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے، ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ امریکہ سے مذاکرات نہیں۔