’’ہمیں امریکہ کے خیالات موصول ہو چکے ہیں اور ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘: ایران
تہران//ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے دیے گئے تازہ ردِعمل کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ ثالث کے طور پرپاکستان مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات اس وقت معاہدے اور دوبارہ حملوں کے درمیان ’انتہائی نازک مرحلے‘ میں ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بگائی نے کہا،’’ہمیں امریکہ کے خیالات موصول ہو چکے ہیں اور ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘یہ بیان ایرانی خبر رساں ایجنسی نور نیوز کے مطابق بدھ کی رات دیا گیا۔ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیرجمعرات کو تہران جائیں گے تاکہ ایرانی حکام سے مذاکرات کریں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایک ہفتے میں دوسری بار ایران پہنچے۔
اپریل میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔تاہم وہ مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے کیونکہ ایران نے امریکہ پر زیادہ مطالبات کرنے کا الزام لگایا۔صدر ٹرمپ نے کہاِ’’اگر ہمیں درست جواب نہ ملا تو معاملہ بہت تیزی سے آگے بڑھے گا۔ ہم مکمل طور پر تیار ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ وہ چند دن مزید انتظار کرنے کو تیار ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچہ نے کہاِ’’جہاں لڑنا ضروری ہوگا، ہم لڑیں گے، اور جہاں مذاکرات ضروری ہوں گے، ہم مذاکرات کریں گے۔‘‘انہوں نے واضح کیا کہ ایران سفارت کاری اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے۔ایران نے اپنی تازہ تجویز میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کا ازالہ، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی رہائی، امریکی افواج کا انخلا،جیسے مطالبات شامل کیے ہیں۔ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے خبردار کیا،’’اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو علاقائی جنگ اس بار خطے سے باہر تک پھیل جائے گی۔‘‘