ماہ رمضان چل رہا ہے۔یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اور ہمارے پیارے آخری نبی و رسول برحق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری اور کامل ترین کتاب قرآن مجید نازل کی ۔اس مہینے کا مہمان خود باری تعالیٰ ہوتا ہے اور میزبان اہلِ ایمان ہیں اور دعوت نامہ ہم تک قرآن مجید کی صورت میں پہنچا ہے یعنی اس دعوت نامہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان سے مخاطب ہے کہ’’ اے ایمان والو تم پر روزے واجب کردئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو‘‘( سورہ بقرہ آیت ۳۷۱)۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس طرف دعوت دی کہ وہ روزہ رکھیں اور اہل ایمان پر لازم ہوگیا ہے کہ وہ اس دعوت نامے کو کسی بھی صورت میں قبول کریں اور اگر کسی نے اِس دعوت نامے پر عمل نہیں کی یا قبول نہیں کیا تو اْس کو ہرجانہ دینا پڑے گا جو بہت ہی سخت اور کٹھن ہوگا۔ دوسری بات یہ کہ اہلِ ایمان کے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔ وہ تقویٰ اس وقت حاصل ہوجاتا ہے جب ہم حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی کو بھی مدنظر رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مہینے میں اہل ایمان عبادات میں مصروف رہنے کے ساتھ ساتھ مستحقین کا خاص خیال رکھتے ہی ہیں مگر کورونا کی اس وباء نے ہمیں عبادت اور امداد فراہم کرنے کا زیادہ ہی موقع فراہم کیا ہے کیونکہ وبائی صورتحال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ لوگ گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔ اب اگر اس لاک ڈائون میں کچھ بچا ہے تووہ یادِ خدا یعنی اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کرنا۔ اگر اس سال اہلِ ایمان چاہیں تو اپنے پالنے والے پروردگار کی قْربت حاصل کرنے میں کمال حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس کے لئے دور جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے،ہم اپنے اپنے قریوں، بستیوں، گاؤں یا شہروں میں یا اپنے آس پاس نظر دوڑائیں کہ کہیں ہمارے آس پاس میں کوئی بیوہ، یتیم یا مسکین بھوکا نہیں سو رہا ہے اور ہم غفلت کی نیند سورہے ہیں۔ ہمیں ایسا سنہری موقع آج تک نہیں ملا کیونکہ ہم مصروفِ کار رہتے تھے اور شام کو تھکے ہارے گھر پہنچ جاتے تھے اور اپنے آس پڑوس کی فکر نہیں رہتی تھی۔ اگر ہم اس سال خواب غفلت سے بیدار ہوئے اوراپنے اڑوس پڑوس میں رہنے والوں کی مزاج پْرسی کی تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے اور ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہمیں دنیا کی سب سے بڑی دولت یعنی قرب الٰہی حاصل ہوگیا۔
اہلِ ایمان اگرچہ اس مہینے میں مومنین کیلئے افطاری کا انتظام کرتے ہیں اور اپنے گھر بْلا کر افطاری کراتے ہیں مگر اس سال ہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو اس کے لئے بھی ہمیں ایک بہترین موقع ہاتھ آیا ہے، ہمیں اْس افطاری کو اب ان لوگوں میں تقسیم کرنا چاہئے جو دن میں مزدوروی کرکے شام کو اپنے اہل وعیال کیلئے کھانا لاتے تھے اور اب مزدوروی نہ ملنے کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیںجبکہ وہ اپنی عزت برقرار رکھنے کیلئے کسی سے فریاد نہیں کرتے ہیں یا ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں مگر اس آس میں ضرور رہتے ہیں کہ شام تک اللہ تعالیٰ ہمارے کھانے کا انتظام ضرور کرے گا جب شام کے وقت ہم یاآپ اس کے گھر جاکر اس کو کھانا فراہم کریں گے تو اْس کااللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان و یقین مزید مستحکم ہوگااور اس کے ایمان میں نئی جان آئے گی اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی سعادت نصیب ہو جائے گی۔
کورونا کی وباء اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سے لوگ بیروزگار ہوگئے اوربہت سے لوگوں کو مزدوروی نہیں مل رہی ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں، اس لئے یہ ہم پر فرض عائد ہورہا ہے کہ ہم ان کا خاص خیال رکھیں۔ خاص کر سحری اور افطاری کے وقت۔کہیں ایسا نہ ہو کہ یہی پڑوسی یتیم، مسکین یا بیوہ روزِ آخرت اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں کہ اے اللہ میرے آسودہ حال ہمسایہ کو سحری اور افطاری کے وقت بھی میرے بچوں پر ترس نہیں آتاتھا۔
اس لئے اگر ہم اپنے مفلس، غریب، یتیم پڑوسیوں کو رہنے کیلئے مکان فراہم نہیں کرسکتے ہیں مگر ان کیلئے روٹی تو فراہم کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اور ہم پر فرض بھی ہے۔ اگر ہم نے ان کیلئے کھانا فراہم نہیں کیا تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی برکت و سعادت کیسے حاصل ہوگی۔ زمانہ بدل جائے گا وہ یتیم آسودہ حال ہوجائے گا اور ہم پرمفلسی کے ایام آجائیں گے، اُس وقت ہمیں اپنے کئے پر پچھتاوا ہوگا کیونکہ یہ ایک مشہور کہاوت ہے کہ نہ غریبی رہنے والی ہے اور نہ ہی امیری۔ عہد کریں کہ ہمارے اڑوس پڑوس میں کوئی بھوکا نہ سوئے یاکوئی یتیم، مسکین یا بیوہ بھیک مانگنے پر مجبور نہ ہوجائے۔
رابطہ : خانپورہ کھاگ
7006259067