راجوری //بھاٹہ دھوڑیاں علاقہ میں چل رہے انکائونٹر کی وجہ سے بند ہوئی جموں پونچھ شاہراہ ٹرک ڈرائیوروں کیلئے پیچیدہ معاملہ بن گیا ہے ۔شاہراہ کو گزشتہ آٹھ دنوں سے کئی ٹرک درماندہ ہو ئے ہیں تاہم ڈرائیوروں کے پاس کھانے پینے کیساتھ ساتھ دیگر ضروری ساز و سامان بھی نہیں ہے ۔شاہراہ کو ساز و سامان سے بھری ہوئی کئی مالبردار گاڑیاں گزشتہ آٹھ دنوں سے کھڑی ہیں جبکہ ڈرائیور طبقہ نے انتظامیہ سے حفاظت کیساتھ شاہراہ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں پونچھ شاہراہ کو جڑانوالی گلی تا بھمبر گلی تک بھاٹہ دھوڑیاں انکائو نٹر کی وجہ سے مکمل بند رکھا گیا تھا جبکہ مذکورہ انکا ئونٹر گزشتہ ہفتے ملی ٹینٹوں کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے فوجی اہلکاروں کے بعد شروع کیاگیا تھا جبکہ شاہراہ کے بند ہونے کی وجہ سے کئی مالبردار گاڑیوں پھنسی ہوئی ہیں حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے پونچھ ضلع ہیڈ کوارٹر جانے والی ٹریفک کو بھمبر گلی سے مینڈھر کی جانب موڑ دیا گیا ہے اور اکثر گاڑیاں بھمبر گلی مینڈھر اور کرشنا گھاٹی سے ہوتے ہوئے پونچھ جارہی ہیں تاہم کئی ٹرک ایسے ہیں جو مشکل اور تنگ راستے کے ذریعہ پونچھ نہیں پہنچ سکتے ۔ایسے درجنوں ٹرک بھمبر گلی اور منجا کوٹ کے درمیانی علاقہ میں درماندہ ہیں ۔منجا کوٹ تحصیل کے دھیر ی رلیوٹ علاقہ میں درماندہ ایک 14ٹائر ٹرک کے ڈرائیور ممی رام نے بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ دنوں سے مذکورہ مقام پر درماندہ ہے جبکہ گاڑی میں ٹائلیں بھری ہوئی ہیں ۔راجستھان کے ڈرائیور نے بتایا کہ اس کے پاس کوئی دوسرا متبادل بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے مذکورہ مقام پر ہی روکنے کو ترجیح دی ہے ۔ڈرائیوروں نے بتایا کہ درماندہ ڈرائیوروں کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ہے اور وہ ان مقاما ت پر روز مررہ کی ضروریات سے بھی محروم ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ حالانکہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کی پریشانی سمجھی جاسکتی ہے ۔ڈرائیوروں نے انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ان پُر حفاظت نکلنے کا کو ئی بندوبست کیا جائے ۔