جموں//جموں شہر میں بڑھ رہی آوارہ کتوں کی بھیڑ سے لوگوں وراہگیروں کو پریشانیوں کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔آوارہ کتے سڑکوں،گلی کوچوں و دیگر جگہوں پر موجود ہوتے ہیں۔یہ کبھی بھی کسی کو بھی کاٹ لیتے ہیں جس کہ وجہ سے لوگوں کو کافی پریشانی سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔کئی مرتبہ کوئی کسی اہم کام سے کہیں جا رہا ہوتا ہے تو اچانک سے ایک کتا کاٹ لیتا ہے اب وہ شخص اس اہم کام کو چھوڑ اپنا علاج کروانے کیلئے بھاگتا پھرتا ہے۔جموں میڈیکل کالج ہسپتال کی ڈاکٹر نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ ہر روزاوسطاً30کیس کتے کے کاٹنے کے جموں میڈیکل کالج ہسپتال میں آتے ہیں۔یعنی ایک مہینے میں900کیس ہو گئے۔پہلے کے دور میںکتے کے کاٹنے سے14انجکشن لگائے جاتے تھے اور وہ بھی پیٹ میں اور اب تو ایسی دوائیاں آچکی ہیں کہ اب صرف4یا5انجکشن ہی لگتے ہیں۔جموں کے بیشتر علاقوں میں آوارہ کتوں کی رات بھر ہڑبونگ رہتی ہے ۔لوگوں کے رات کو سونے میں بھی خلل پیدا ہوتا ہے۔لوگ ان آوارہ گھومتے کتوں سے بہت پریشان ہیں۔بچوں کو اسکول جانے اور خواتین کو گھر سے باہر نکلنے میں بھی خوف محسوس ہوتا ہے ۔بچوں کو سکول جانے میں پریشانی،لوگوں کو گلیوں و سڑکوں سے کذرنے میں پریشانی آخر کب تک۔ رات کو یہ کتے شور تو مچاتے ہی ہیں جو لوگ موٹر سائیکل پہ نکلتے ہیں انہیں بھی کتوں کی دہشت کا سامنا ہوتا ہے، کبھی ان کے پیچھے بھاگتے ہیں تو کبھی ان کے سامنے آتے ہیں اور کبھی انہیں بھی کاٹ لیتے ہیں۔ آوراہ کتوں پر نکیل کسنے کا کام جموں میونسپل کارپوریشن پر ہے ، اول تو کارپوریشن حکام آورہ کتوں کی بڑھتی آبادی پر روک لگانے میں ہی ناکام رہے ہیں اور اگر کبھی کسی با اثر شخص کے کہنے پر کتوں کو پکڑا بھی جائے تو انہیں ایک محلے سے پکڑ کر دوسرے محلے میں چھوڑ دیا جاتا ہے یعنی معاملہ جہاں کا وہی رہ جاتا ہے ۔