جموں//گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کی ہڑتال بدھ کے روز بھی جاری رہی۔ وہ گورنر انتظامیہ سے اپنے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی اپیل کے ساتھ ہی انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی انضباطی کارروائیوں سے قطع نظر اپنی اس جد وجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پر عزم ہیں۔ اس موقعہ پر یونین لیڈران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طرف سے تنخواہ میں اضافہ کا جائزہ پوری طرح سے حق پر مبنی ہے کیوں کہ اب جب کہ پورے ملک میں ساتواں پے کمیشن بھی لاگو کر دیا گیا ہے تو آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کے ساتھ امتیازی سلوک کے کیا معنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں تنخواہوں میں اضافہ کردیا گیا ہے اسی طرز پر جموں کشمیر میں بھی آنگن واڑی ورکروں کے مشاہراہ کو بڑھانے کے علاوہ موقعہ پر ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ پر پنشن کے تمام فوائد دئیے جانے اور دیگر سرکاری ملازمین کی طرح نوکری کی تمام مراعات دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پڑوسی ریاستوں میں آنگن واڑی ورکروں کو 10ہزار روپے اور ہیلپروں کو 6ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے لیکن جموں کشمیر حکومت ان کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھ رہی ہے اور انہیں نہایت ہی قلیل مشاہراہ دیا جاتا ہے اور وہ بھی تسلسل کے ساتھ نہیں دیا جاتا ۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جب تک گورنر انتظامیہ ان کے مطالبات کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی تب تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔