سرینگر// کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کے ساتھ ہی وادی میں ثقافتی سطح پر بھی کئی یادگاری دن بھی وقت کی دھول میں کھو گئے،جن میں ’’نوریہہ‘‘ اور’’ سونتھ‘‘ بھی شامل ہیں۔ بھارت میں رائج ہندو دھرم کے قمری کلینڈر کے پہلے روز کو پرتھم یا’’ اکھ دوہ‘‘ کہا جاتا ہے بلکہ شمسی کلینڈر کے پہلے دن کو سنکرات کہا جاتا ہے۔ شمسی مہینے کی پہلی سنکراتی کو ’’سونتھ‘‘ کہا جاتا ہے جبکہ قمری مہینے کے پہلے اکھ دوہ کو کشمیری پنڈتوں کی زباں میں’’ نو ریہہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سونتھ اتوار 14مارچ 2021کو شروع ہوا جو ایک مقرہ مدت تک رہے گا۔سونتھ کو آمد بہار کی علامت یا نوید کے طور پر بھی بھی سمجھاجاتا ہے۔کشمیری پنڈت اس روز ایک دن قبل ہی رات کو ایک تھالی جس کو’’ سونتھ تھال‘‘ کہا جاتا ہے اور اس میں12 اشیاء کو سجایا جاتا ہے۔ اس تھال میں اخروٹ،بادام،موسمی پھول،جڑی بوٹی، قلم و سیاہی، کرنسی، شیو ،پاروتی کی تصویر کھانڈ،نمک،پکے اور کچے چاول،روٹی،دودھ اور دہی رکھے جاتے ہیں اور سونتھ کے پہلے روز صبح سویرے جاگنے کے بعد پہلے اس کے درشن کئے جاتے ہیں،جس کے بعد ہی سال اور دن کی شروعات کی جاتی ہے۔جے پور راجستھان میں مقیم کشمیری پنڈت ویر جی کول نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کشمیری پنڈتوں کے کشمیر میں رہنے کے دوران مقامی آبادی ان دنوں اور یادگاری ثقافتی ایام، سونتھ،نوریہہ ،ہرد اور سنکرات کے بارے میں معلومات رکھتی تھی تاہم کشمیر سے پنڈتو ںکی نقل مکانی کے بعد یہ دن بھی وقت کی دھول میں کہیں کھو گئے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں ان ایام کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیری پنڈتوں کیلئے یہ کلینڈر نہایت ہی اہم ہے کیونکہ کشمیری پنڈت تمام تہوار اپنے ان ہی کلینڈر کی تاریخوں کے مطابق مناتے ہیں۔ ۔ان کا کہنا تھا کہ ششر سنکرات(مکر سنکرات) کو بھی لوگ بھول چکے ہیں۔