مینڈھر//آئی ٹی آئی مینڈھر ایک اہم ادارہ ہے جو گزشتہ کچھ برسوںسے حکام کی عدم توجہی کاشکار بناہواہے جس کی وجہ سے اس میں زیر تربیت طلباء متاثر ہورہے ہیں ۔یہ ادارہ گزشتہ تیس سال سے بھی زائد عرصہ سے چل رہا ہے جس میں سے اس وقت تک ہزاروں کی تعداد میں طلباکورس کرچکے ہیںجن میںسے سینکڑوں طلباء اب تک ملازمت بھی حاصل کرچکے ہیں تاہم آج اس ادارے کی حالت خستہ بنی ہوئی ہے اور کروڑوں روپے سے تعمیر کیا گیا ہوسٹل بند پڑا ہے جس کے نتیجہ میںطلباء پریشان حال ہیں اور انہیں رہنے کیلئے جگہ نہیں مل رہی ۔ کالج کے ہوسٹل میں 25 بچوں کے ٹھہرنے کی گنجائش ہے لیکن اس وقت صرف چار بچے ہی اس میں قیام کرتے ہیں جن کو کھانے پینے کا انتظام بھی خود ہی کرناپڑتاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملی ٹینسی کے دوران ہوسٹل میں فورسز رہتی تھی جس نے ہوسٹل کی عمارت کو کھنڈرات میں تبدیل کردیااور یہ عمارت اب طلباء کے رہنے کے قابل نہیں رہی اور نہ ہی حکام نے اس کو دوبارہ تعمیر کروایا ہے۔آئی ٹی آئی کمپلیکس کی دیگر عمارتوں کا بھی یہی حال ہے اور ان کی مرمت بھی نہیں کی جارہی جس سے طلباء کو پریشانی کاسامناہے ۔اس وقت بچوں کو پڑھانے والا سٹاف بھی پورا نہیں اور مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اگر یہی حالت رہی تو کچھ عرصہ کے بعد یہ ادارہ بند ہی ہوجائے گا۔مقامی لوگوں محمد رقیب،عاصف خان ،شہراز احمد کا کہنا ہے کہ ہوسٹل کی خراب حالت کے باعث کوئی بھی طالبعلم اس میں رہنا پسند نہیں کرتا کیونکہ عمارت کا حال ہی ایسا نہیں کہ اس میں رہاجاسکے ۔ انہوںنے کہاکہ چھت سے پانی ٹپکتارہتاہے اور ہوسٹل کے اندر رہنے کانہ کوئی انتظام ہے اور نہ ہی بچوں کیلئے کھانے کاکوئی بندوبست ہے ۔انہوںنے حکام سے اپیل کی کہ ہوسٹل کی طرف توجہ دی جائے اور ان غریب طلباء کی فکر کی جائے جو ہوسٹل ہوکر بھی کرایہ کے کمروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔