جموں//حال ہی میں تعینات ہوئے نئے انسپکٹرجنرل آف پولیس ٹریفک ،جموں وکشمیربسنت رتھ کی جانب سے یکے بعددیگرے جاری کئے گئے انقلابی سرکیولراوراحکامات اورٹریفک قوانین کے نفاذ کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات کی سوشل میڈیاپرسرگزشت کے بعد،آفیسرمذکورہ اپنے سرکیولروں کواپنے مشہورقول جملے کواپنے عمل سے اسے سچ ثابت کررہے ہیں۔قابل ذکرہے کہ بسنت رتھ نے سوشل میڈیانیزمیلزکے ذریعے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق موصول ہوئی شکایات کے بعدجموں شہرکے ٹریفک نظام کے سدھارکیلئے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے جس کی عوامی حلقوں سے انہیں داد بھی موصول ہورہی ہے اورجموں شہرمیں ٹریفک نظام میں نمایاں بہتری بھی دیکھنے کومل رہی ہے۔بسنت رتھ ،آئی جی ٹریفک تعینات ہونے کے چندہی روزبعدہرگھرمیں چرچاکاموضوع بن چکے ہیں ،وجہ یہ ہے چندہی دنوں میں وہ سوشل میڈیاپرٹریفک سے متعلق موصول ہونے والی شکایات پرسختی سے کارروائی کرکے جموں وکشمیرکے ٹریفک نظام کوسدھارنے میں کافی حدتک کامیاب اورشہرت حاصل کرچکے ہیں۔وہ فیس بُک پرلکھتے ہیں کہ ،I am in hurry۔ یعنی میں جلدی میں ہوں،مجھے ڈسٹرب نہ کیاجائے اورکوئی ایساکرتاہے تواس کامطلب ہے کہ وہ میرے کام کی قدرنہیں کرتا۔بسنت رتھ ،2000بیچ کے آئی پی ایس آفیسرہیں جنھوں نے 9فروری 2018کوہی آئی جی پی ٹریفک جموں وکشمیرکے عہدے کاچارج سنبھالاہے اوردن رات محنت کرکے ٹریفک نظام کے سدھارکیلئے کام کرنے میں مصروف عمل نظرآرہے ہیں،جہاں ان کی جانب سے ٹریفک قوانین کی پاسدارنہ نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جہاں بڑے پیمانے پرستائش ہورہی ہے وہیں کچھ لوگ ان کے برتائوکوتنقیدکانشانہ بنانے سے بھی گریزنہیں کررہے ہیں ،البتہ بیشترآبادی ان کی داددے رہی ہے۔آئی جی ٹریفک ،بسنت نے 28فروری کو6 ماتحتوں جن میں کچھ ضلع ترقیاتی کمشنراورکچھ میونسپل حکام شامل ہیں کومراسلے جاری کئیاوران کے ساتھ متعددمسائل زیربحث لاکران سے تعاون طلب کیا۔ اس سلسلہ میں آئی جی نے ایک آرڈر جاری کیاجس کے تحت ضلع ترقیاتی کمشنرجموں اورکمشنرجموں میونسپل کاپوریشن کوہدایت دی گئی کہ وہ ان بنکٹ ہالوں کے لائسنس منسوخ کریں جن کے پاس گاڑیوں کیلئے پارکنگ کی جگہ نہیں ہے۔ایک سرکیولرٹرانسپورٹر کمشنراورکمشنرجموں میونسپل کارپوریشن کوجاری کیاگیاہے جس میں آئی جی نے شکایت کی ہے کہ یہ دیکھاگیاہے کہ لگ بھگ تمام آٹوموبائل گیرج اورورکشاپ اپناکاروبارفٹ پاتھوںیاسڑکوں پرچلارہے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام لگتاہے اورکہاگیاکہ ان کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے ۔ساتھ ہی یہ بھی کہاگیاکہ کچھ علاقوں میں پارکنگ کی وجہ سے بھی ٹریفک کی گنجانیت میں اضافہ ہورہاہے جس کاجائزہ لیاجاناچاہیئے۔ٹرانسپورٹ کمشنرسے یہ بھی کہاگیاکہ وہ سڑکوں پرتمام کاغذات والی گاڑیوں کوہی سڑکوں پرچلنے کی اجازت دیں۔آئی جی ٹریفک نے سوشل میڈیاپرلکھاہے کہ ،ڈوڈہ۔کشتواڑروڈ، جموں پونچھ روڈ اورجموں۔بانہال روڈروڈپرمتعددگاڑیاں بغیرفٹنس سرٹیفکیٹوں کے چل رہی ہیں ۔انہوں نے متعلقہ آفیسروں سے گذارش کی ہے کہ وہ ایسی گاڑیوں کے ضبط کرکے ان کے مالکان کوجواب دہ بنایاجائے۔ٹرانسپورٹرکمشنراورکمشنرجے ایم سی سے یہ بھی کہاگیاہے کہ وہ بس اورمیٹاڈورسٹاپوں کی نشاندہی کریں۔سٹاپوں پرباقاعدہ نشان لگے ہوئے ہیں ،فٹ پاتھوں پربھی نشان لگائے جائیں تاکہ پیدل مسافربھی اپنے راستوں پرہی چلیں۔جموں اورسرینگرشہروں کے ایس ایس پیز ٹریفک سے کہاگیاہے کہ وہ ہسپتالوں ،سکولوں،کالجوں،شاپنگ مالزاورمصروف بازاروں کے قریب نوپارکنگ اورنوہارن زونوں کی نشاندہی کریں تاکہ ٹریفک جام اورآوازکے شورسے بچاجاسکے۔رتھ نے ٹریفک اہلکاروں سے کہاہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے کاروں پر ’بل بارس‘،کریش گارڈوں پرنہ لگانے کے حکمانے پرعملدرآمدکریں۔وہ کہتے ہیں کہ کریش گارڈس غیرقانونی ہیں،ٹریفک اہلکاراس سلسلے میں کارروائی کریں اوراس کاآغازسرکاری گاڑیوں اورایس یوویزسے کیاجائے۔اس کے علاوہ آئی جی موصوف نے نجی مسافرگاڑی کے مالکان اورتعلیمی اداروں کوایڈوائزری جاری کرکے ٹریفک قواعدکومکمل طورپرنافذکرنے کیلئے کہاہے۔انہوں نے ٹرانسپورٹ کمشنرسے خواتین اورمعذورافرادکوریزرویشن کے ساتھ ساتھ طلباء کے کرایہ میں پچاس فیصدچھوٹ کویقینی بنانے پرزوردیاہے۔آٹورکھشاڈرائیوروں کی طرف سے اضافی کرایہ وصولی کی شکایات کے پیش نظر آئی جی ٹریفک نے آٹورکھشاڈرائیوروں سے کہاکہ وہ میٹرنصب کریں یاپھرکارروائی کاسامناکرنے کیلئے تیارہوجائیں۔پرائیویٹ ٹیکس آپریٹروں سے کہاگیاکہ وہ قواعدکی پاسداری کریں اوریہ بھی کہاہے کہ اگرکوئی اضافی کرایہ وصول کرتاہے تواس گاڑی کانمبراورجگہ ،آئی جی کے واٹس ایپ نمبرپربھیجیں۔اس سے پہلے رتھ نیٹویٹرپرا لکھاتھاکہ ’’اگرآپ امیرہیں اوراپنی گاڑی رکھتے ہیں توآپ کوٹریفک قوانین کاعلم بھی ہوناچاہیئے‘‘آفیسرموصوف شہریوں اورٹریفک قواعدکی خلاف ورزی کرنے والوں کے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے اکثرسوشل میڈیاپرمخاطب ہوکر بتاتے ہیں کہ روڈسیفٹی ایک چیلنج ہے اورریاست میں گذشتہ تین برسوں یعنی 31اکتوبر 2017 تک 2,666افرادہلاک جبکہ 22,021 زخمی ہوئے ۔بسنت رتھ کی جانب سے عام اورخاص انسان میں فرق نہ کرنے کے اندازکی وجہ سے وہ جموں کے عام لوگوں میں ایک سیلبرٹی کے طورپراُبھرکرسامنے آئے ہیں اورسوشل میڈیاپر کثیرتعدادمیں لوگ ان کی حمایت میں سٹیٹس اپ ڈیٹ کررہے ہیں۔انہوںنے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگروہ مجھے دیکھیں تو بات چیت میں میراوقت ضائع نہ کریں کیونکہ ڈسٹرب کرنے سے مجھے اریٹیشن ہوتی ہے ۔اب جموں کے عام لوگ تیزرفتاری ڈرائیونگ، روڈسٹنٹس، ٹریفک جام ،لال بتی کوجمپ کرنے سے گریزکررہے ہیں اوران کی حمایت کیلئے سوشل میڈیاپر مختلف طریقوں سے روڈسیفٹی قوانین کوعام کررہے ہیں۔انہوں نے حکومت سے جموں اورسرینگرشہروں کے ٹریفک نظام کوبہتربنانے کیلئے 90دنوں کاوقت مانگاہے ،اس سلسلے میں بسنت رتھ کاکہناہے کہ مجھے صرف بارہ مہینے یعنی تین ماہ دیجئے ،پھردیکھیے کیسے ٹریفک نظام درست ہوتاہے ۔انہوں نے کہاکہ میں چاہتاہوں کہ جموں اورسرینگرہندوستان کے دوبڑے شہر بہترین ٹریفک نظام کیلئے جانے جائیں۔انسپکٹرجنرل آف پولیس جموں ایس ڈی سنگھ جموال اورآئی جی پی آرمڈدنیش رانا نے بھی بسنت رتھ کی ستائش کرچکے ہیںتاہم چندروزپہلے ڈائریکٹرجنرل آف پولیس نے ایک نوٹس جاری کرکے آئی جی ٹریفک کے ورکنگ سٹائل پراعتراض جتایاتھاتاہم کااس کاکچھ خاص اثردیکھنے کونہیں ملا،اورٹریفک نظام بسنت رتھ کی کاوشوں کی بدولت بہتری کی جانب گامزن ہے۔