محمد عرفات وانی
اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیبی ورثہ ہے جو صدیوں کی فکری، ثقافتی اور سماجی تاریخ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ وہ زبان ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، انسان میں شائستگی، نرم مزاجی اور احترام پیدا کرتی ہے اور مختلف تہذیبوں کے درمیان ایک مضبوط رابطے کا کردار ادا کرتی ہے۔ اردو برصغیر کی وہ مشترکہ آواز ہے جس میں ہر طبقے، ہر خطے اور ہر فکر کی جھلک موجود ہے۔ اردو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب ہے جو انسان کو اس کے ماضی، حال اور مستقبل سے مربوط رکھتی ہے۔
اردو کی تاریخ کسی ایک خطے یا ایک دور تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک طویل تہذیبی ارتقا کا نتیجہ ہے۔ برصغیر میں جب مختلف زبانیں اور ثقافتیں ایک دوسرے کے قریب آئیں تو ایک ایسی مشترکہ زبان کی ضرورت محسوس ہوئی جو رابطے کا ذریعہ بن سکے۔ اسی ضرورت نے اردو کو جنم دیا۔ عربی، فارسی، ترکی اور مقامی زبانوں کے امتزاج نے اسے وہ دلکشی عطا کی جو اسے دنیا کی حسین ترین زبانوں میں شمار کرتی ہے۔ یوں اردو دراصل تہذیبوں کے امتزاج اور فکری میل جول کی ایک خوبصورت داستان ہے۔
اردو ادب دنیا کے عظیم ادبی ورثوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس زبان نے شاعری، نثر، افسانہ اور ناول کے ذریعے انسانی جذبات، تجربات اور خیالات کے ہر پہلو کو بیان کیا ہے۔ میر تقی میر نے درد کو زبان دی، غالب نے فکر کو وسعت عطا کی، علامہ اقبال نے قوموں میں بیداری کی روح پھونکی اور فیض احمد فیض نے مزاحمت کو حسن عطا کیا۔ یہ سب اس حقیقت کے مظہر ہیں کہ اردو صرف زبان نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو دل اور ذہن دونوں کو متاثر کرتی ہے۔اردو نثر نے بھی سماج کی حقیقتوں کو بے حد موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ پریم چند نے دیہی زندگی کے مسائل کو اجاگر کیا، منٹو نے انسانی نفسیات کے تلخ اور سچے پہلو بے باکی سے پیش کیے جبکہ کرشن چندر نے سماجی ناانصافیوں کو ادب کا حصہ بنایا۔ اردو افسانہ اور ناول محض کہانیاں نہیں بلکہ زندگی کی حقیقتوں کا آئینہ ہیں جو قاری کو سوچنے، سمجھنے اور احساس کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اردو صحافت نے برصغیر کی تاریخ میں ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ آزادی کی تحریک سے لے کر آج تک اردو اخبارات نے عوامی شعور بیدار کرنے اور سچائی کو اجاگر کرنے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ یہ صحافت صرف خبر رسانی نہیں بلکہ ایک فکری ذمہ داری ہے جو معاشرے کو درست سمت دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔
زبان کسی بھی قوم کی تہذیبی شناخت ہوتی ہے اور اردو اس لحاظ سے برصغیر کی مشترکہ تہذیب کی نمائندہ زبان ہے۔ اس میں محبت، برداشت، احترام اور انسان دوستی جیسے اعلیٰ جذبات موجود ہیں۔ اردو بولنا اور لکھنا دراصل ایک پوری تہذیب کو زندہ کرنا ہے۔ اس کے بغیر ہماری تہذیبی شناخت نامکمل محسوس ہوتی ہے۔موجودہ دور میں اردو کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تعلیمی اداروں میں اس کی اہمیت کم ہو رہی ہے اور نئی نسل کا رجحان انگریزی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ صورت حال تشویشناک ضرور ہے کیونکہ زبان کا زوال دراصل تہذیب کا زوال ہوتا ہے اگر ہم نے اس طرف توجہ نہ دی تو اردو کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔اس کے باوجود ڈیجیٹل دور نے اردو کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ سوشل میڈیا، بلاگز اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اردو کو نئی زندگی مل رہی ہے۔ نوجوان نسل بڑی تعداد میں اردو میں لکھ رہی ہے اور اسے دنیا تک پہنچا رہی ہے۔ یہ رجحان اردو کے روشن مستقبل کی امید ہے بشرطیکہ اسے مزید منظم انداز میں فروغ دیا جائے۔
اردو کے تحفظ اور فروغ کے لیے ضروری ہے کہ اسے تعلیمی نظام کا مضبوط حصہ بنایا جائے، ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے، مشاعرے اور ادبی محافل کو زندہ رکھا جائے اور نئی نسل کو اس زبان سے جوڑا جائے۔ صرف جذباتی وابستگی کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔موجودہ دور میں جموں و کشمیر میں اردو زبان کے حوالے سے ایک نئی فکری اور سیاسی بحث جنم لے چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں سرکاری ملازمتوں خصوصاً ریونیو سروسز کی بھرتی کے قواعد میں اردو کی شرط کو لے کر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کی رہنما التجا مفتی اس فیصلے کو اردو کی تہذیبی و تاریخی شناخت پر حملہ قرار دے کر احتجاج کر رہی ہے تو دوسری طرف حکومتی حلقے اس بات کی وضاحت کر رہے ہیں کہ اردو کو ختم کرنے کا کوئی باضابطہ فیصلہ زیر غور نہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اردو کو حذف کرنے کی باتیں غلط فہمی پر مبنی ہیں اور حکومت اس زبان کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ اس ساری بحث نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ کشمیر کی سماجی، انتظامی اور تہذیبی شناخت کا ایک اہم ستون ہے، جس کے گرد سیاسی اور فکری مباحث آج بھی شدت اختیار کیے ہوئے ہیں۔
میری رائے میں اردو کو صرف ایک مضمون نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی حقیقت کے طور پر اپنانا چاہیے۔ جب زبان زندہ رہتی ہے تو تہذیب بھی زندہ رہتی ہے اور جب زبان کمزور ہوتی ہے تو تہذیب بھی مدھم پڑنے لگتی ہے۔ اردو ہماری اجتماعی شناخت کا وہ حصہ ہے جسے نظر انداز کرنا اپنی تہذیب سے دور ہونے کے مترادف ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اردو ہماری روح، ہماری پہچان اور ہماری تہذیب کا روشن آئینہ ہے۔ یہ زبان دلوں کو قریب لاتی ہے، انسان کو انسانیت کے قریب کرتی ہے اور ہمیں ایک مشترکہ فکری ورثے سے جوڑتی ہے۔ اگر ہم نے اسے اپنایا اور اس کی حفاظت کی تو اردو ہمیشہ زندہ رہے گی اور ہماری تہذیبی شناخت کو مضبوط بناتی رہے گی۔
رابطہ۔9622881110